پاکستان میں رائے دہی کے دوران خودکش دھماکہ‘ 35 افراد ہلاک

پاکستان میں نئی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹنگ آج کم ازکم 35 افراد کی اسلامک اسٹیٹ کے خودکش بمبار حملہ میں ہلاکت کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ رائے دہی مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام 6 بجے ختم ہوئی۔ نتائج کا اعلان اندرون 24 گھنٹے کردیا جائے گا۔ 85 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ رائے دہی 6 بجے ختم کردی گئی حالانکہ کئی بڑی جماعتوں بشمول پاکستان مسلم لیگ نواز‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے ایک گھنٹہ بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے شکایت کی تھی کہ رائے دہی کا عمل سست رہا لہٰذا وقت بڑھانا ضروری ہے لیکن الیکشن کمیشن نے ان کی بات نہیں مانی۔ رائے دہی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد اسلامک اسٹیٹ کے ایک خودکش بمبار نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بھوسا منڈی علاقہ میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر خودکو دھماکہ سے اڑالیا۔ 31 افراد بشمول ملازمین پولیس ہلاک ہوئے۔ علیحدہ واقعات میں 4 جانیں گئیں۔ لگ بھگ 10 کروڑ 60 لاکھ رائے دہندوں نے اپنا اندراج کروایا تھا۔ الیکشن کمیشن کے بموجب 3459 امیدوار قومی اسمبلی کے لئے میدان میں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے لئے 8396 امیدواروں نے اپنی قسمت آزمائی۔ پاکستان میں 4 صوبے ہیں جن کے نام پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ ہیں۔ 30 سے زائد سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔ گیلپ پاکستان کے پول سروے کے بموجب پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ پی ٹی آئی ‘ قومی سطح پر آگے ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز اہم صوبہ پنجاب میں آگے ہے۔ حکومت تشکیل دینے کے لئے 172 نشستیں درکار ہیں۔ الیکشن سے قبل میڈیا کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی تھی ۔فوج پر الزامات کی تردید کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ وہ اقتدار کی آسانی سے منتقلی میں سہولت کار کا رول ادا کرے گی۔ کوئی مداخلت اس کی طرف سے نہیں ہوگی۔ اس بار ممبئی حملوں کے منصوبہ ساز حافظ سعید نے اپنے امیدوار اللہ اکبر تحریک کے نام سے میدان میں اتارے۔ الیکشن سے قبل ملک میں کافی خون خرابہ ہوا۔ آئی اے این ایس کے بموجب پاکستان میں نئی حکومت منتخب کرنے چہارشنبہ کے دن کروڑوں رائے دہندے قطاروں میں کھڑے تھے کہ بلوچستان میں خودکش بمبار کے حملہ میں کم ازکم 32 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ بلوچستان میں ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ کے قافلہ کو نشانہ بنایا گیا۔ چیمہ محفوظ رہے۔ جیو نیوز نے یہ بات بتائی۔ سیول ہسپتال کوئٹہ نے بھی 31 ہلاکتوں کی توثیق کی ہے۔ علاقہ میں اس وقت کافی ہجوم تھا۔ لوگ ووٹ ڈالنے تعمیر نو ماڈل اسکول کی سمت بڑھ رہے تھے کہ دھماکہ ہوگیا۔ اس پولنگ اسٹیشن پر رائے دہی روکنی پڑی۔ مراکز رائے دہی صبح 8 بجے کھل گئے تھے لیکن پرجوش رائے دہندے ایک گھنٹہ قبل ہی قطار میں کھڑے تھے۔ ووٹوں کی گنتی ساتھ ساتھ کی جارہی ہے۔ 11 ویں عام انتخابات کے نتائج توقع ہے کہ پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی آنے لگیں گے۔ قطعی نتائج جمعرات کی صبح یا دوپہر تک متوقع ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کا ایک ورکر اس وقت ہلاک ہوگیا جب صوبہ خیبر پختونخواہ کے نواں کلی پولنگ اسٹیشن کے باہر پارٹی ورکرس کی عوامی نیشنل پارٹی اے این پی ورکرس کے ساتھ جھڑپ ہوگئی۔ پی ٹی آئی کے 2 ورکر زخمی بھی ہوئے۔ ایکسپریس نیوز نے یہ اطلاع دی۔ مردان میں بھی دو پارٹیوں کے ورکرس میں جھڑپ ہوئی۔ فائرنگ کے واقعہ میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان کے ڈیرہ مراد جمالی میں فائرنگ میں 2 افراد زخمی ہوئے ۔ بھٹو خاندان کے آبائی شہر لاڑکانہ (صوبہ سندھ) کے ایک سیاسی کیمپ کے باہر دھماکہ میں 4 افراد زخمی ہوئے۔ آزاد امیدوار جبران ناصر نے بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان کے حامیوں نے کراچی کے قریب واقع موضع چانڈیو میں ایک استقبالیہ کیمپ پر حملہ کیا۔ 12570 امیدوار قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی جملہ 849 نشستوں کے لئے قسمت آزمارہے ہیں۔لگ بھگ 10 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی ووٹ ڈالنے کی اہل ہے۔ الیکشن میں اصل مقابلہ 3 جماعتوں شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نواز‘ بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کے مابین رہا۔ رائے دہی کا تناسب بڑھانے الیکشن کمیشن نے چہارشنبہ کے دن عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ ملک بھر کے مراکز رائے دہی پر زائداز 4 لاکھ کی فورس لگائی گئی۔ 1947 میں قیام ِ پاکستان کے بعد سے 71 برس کے نصف حصہ میں فوجی آمروں نے حکومت کی۔ ملک کی تاریخ میں صرف دو ہی مرتبہ ایک حکومت نے اپنی میعاد مکمل کرکے دوسری حکومت کے لئے راہ ہموار کی۔ آج کا الیکشن ایسا دوسرا الیکشن ہے۔

جواب چھوڑیں