کانگریس، اے پی اور تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں پر قائم:محمد علی شبیر

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد حزب اختلاف محمد علی شبیر نے آج کہا کہ کانگریس پارٹی اے پی، تنظیم جدید بل میں دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے کئے گئے وعدوں پر بدستور قائم ہے ۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی ( سی ڈبلیوسی ) کے حالیہ اجلاس میں ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے کانگریس نے کہا تھا کہ مرکزمیں برسر اقتدار آنے پر کانگریس ، اے پی کو خصوصی موقف دے گی ۔ سی ڈبلیو سی کی اس تجویز پر ٹی آر ایس کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے تلنگانہ کانگریس قائدین سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ حکمراں جماعت کے قائدین کے مطالبہ پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ان کی پارٹی ، آندھرا پردیش تنظیم جدید بل میں دنوں ریاستوں سے کئے گئے وعدہ پر قائم ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تقسیم ریاست کے مسودہ بل کی تیاری کے موقع پر کے سی آر نے کہا تھا کہ اے پی کو ہیرے جواہرات جو چاہئے دے دو ہمیں صرف علیحدہ تلنگانہ چاہئے ۔ چنانچہ سونیا گاندھی نے علیحدہ تلنگانہ کے مطالبہ کے وعدہ کو پورا کیا جبکہ اے پی کو خصوصی موقف عطا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ محمد علی شبیر آج یہاں اسمبلی میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین کو شرم آنی چاہئے کہ وہ کانگریس پارٹی سے اس مسئلہ پر اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جس نے انہیں علیحدہ ریاست دے کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ انہوںنے ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ سے سوال کیا کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر مسلمانوں کو12فیصد تحفظات کے مسئلہ پر لوک سبھا میں آواز بلند کیوں نہیں کی ۔ ٹی آر ایس ارکان صرف ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر تحریک عدم اعتماد کی تائید کرنے کی بجائے ہوا میں لہراتے ہوئے اجلاس سے چلے گئے ۔ قائد اپوزیشن نے سوال کیا کہ کے سی آر نے ساڑھے چار سال اقتدار کے دوران مرکز سے کیا حاصل کیا ؟ دراصل کے سی آر کو نریندر مودی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اپنے مطالبات کو منوانے کی ہمت نہیں ہے ۔ کے سی آر نے مودی سے خوفزدہ ہو کر کہا تھا کہ انہیں صرف ان کی نظر کرم چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ محبت کی ایک نظر سے کیا عوام کے مسائل حل ہوجائیں گے ؟۔ راستی وزیر ٹی سرینواس یادو کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قائد اپوزیشن نے کہا ، سرینواس یادو کو جنہوں نے علیحدہ تلنگانہ کی شدید مخالفت کی تھی، انہیں کانگریس سے سوال کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے ریاستی وزیر ہریش راؤ سے سوال کیا کہ رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے پارلیمنٹ میں آندھرا کے ارکان کی تائید کرتے ہوئے جے آندھرا کا نعرہ کیوں بلند کیا تھا؟ اس سوال کا جواب دینے کے بعد ہی وہ کانگریس کے موقف سے متعلق بات کریں ۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس ہر تین ماہ میں یوٹرن لیتے ہوئے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہتی ہے ۔ کبھی بی جے پی حکومت کے مخالف عوام فیصلوں کی تائید کرتی ہے تو کبھی مرکز کے خلاف تیسرے محاذ کی بات کرتی ہے۔ عوام کو بتائیں کہ آخر بی جے پی کے ساتھ تمہارا کیا موقف ہے ؟۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس پارٹی بہت جلد کے سی آر، کے ٹی آر اور کے کویتا کے ویڈیو ریکارڈ ز کو منظر عام پر لاے گی جس میںتلنگانہ تحریک کے دوران اور تلنگانہ کی تشکیل کے بعد لے گئے یوٹرن کا پردہ فاش ہوجائے گا۔

جواب چھوڑیں