اسرائیل نے ٹرمپ کی درخواست پر ترکی قیدی کو رہا کردیا

 اسرائیل نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی درخواست پر ترکی کے ایک مبینہ عسکریت پسند کو رہا کردیا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے آج یہ بات بتائی جبکہ قبل ازیں واشنگٹن پوسٹ نے اطلاع دی تھی کہ یہ وائٹ ہائوس کی ایک ناکام کوشش کا حصہ ہے تاکہ انقرہ ایک امریکی قیدی کو رہا کرے۔ اسرائیل نے 15جولائی کو ایبرو اوز کن کو ملک بدر کردیا تھا جبکہ ایک ہفتہ قبل اس خاتون پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس کے فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے ساتھ روابط ہیں۔ خاتون کے وکیل نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ ایبرو کو اسرائیل نے جون میں اس وقت گرفتار کیا تھا جبکہ وہ ٹورسٹ ویزا پر آئی ہوئی تھی۔ اس اقدام پر ترکی برہم تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے کل اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ نے 14جولائی کو اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کو فون پر کہا تھا کہ وہ اوز کان کو رہا کردے تاکہ اس کے بدلے میں امریکی پادری انڈریو برنسن جس نے ترکی کی جیل میں 21ماہ گذارے ہیں اسے رہا کروایا جاسکے تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ میں اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتا کہ صدر ٹرمپ نے ایسی درخواست کی ہے۔ برنسن‘ جنہوں نے انقرہ کے گروپ سے روابط کے الزام کی تردید کی ہے کہا کہ 2016کی ناکام کردی گئی بغاوت اس کے پس پردہ ہے۔

جواب چھوڑیں