ایران کا برتائو تبدیل کرنے‘ امریکہ اپنے حلیفوں کے ساتھ کام کر رہا ہے:ٹرمپ

ٹرمپ انتظامیہ اپنے حلیفوں اور شرکاء کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ ایران پر دبائو ڈالے کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور اپنے اقدامات کو روک دے۔ چند دن قبل ڈونالڈ ٹرمپ کے تہران کو یہ انتباہ دینے کے بعد کہ امریکہ کو دھمکانے پر شدید نتائج وعواقب کا سامنا کرناپڑے گا۔ وائٹ ہائوز نے یہ بیان جاری کیا ہے۔ آسٹریلیا میڈیا میں ایک غیر مصدقہ رپورٹ دی گئی تھی کہ امریکہ‘ ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے‘ اسی دوران وائٹ ہائوز کے ڈپٹی پریس سکریٹری ہوگن گڈلی کے ریمارکس سامنے آئے ہیں۔ کل ایرفورس ون پر سوار رپورٹرس سے بات کرتے ہوئے گڈلی نے کہا میں اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرسکتا۔ میں اس معاملہ پر آپ کو محکمہ دفاع سے رجوع ہونے کیلئے کہوں گا۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ صدر ایران کے بارے میں اپنے موقف واضح رکھتے ہیں۔ ایرانی صدر نے امریکہ کی دھمکیوں پر اسے انتباہ دیا تھا کہ ایسی دھمکیوں سے ایک بڑی جنگ پھیل سکتی ہے۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے حسن روحانی کو وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے دوبارہ امریکہ کو دھمکایا تو اس کے خطرناک نتائج وعواقب برآمد ہوں گے جن کا تاریخ میں کبھی اس نے سامنا نہ کیا ہوگا۔ رائٹر کے بموجب امریکی سینٹ کے ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے باز رہیں۔خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر عاید کردہ پابندیوں میں نرمی کی مہلت چار اگست کو ختم ہو رہی ہے۔ اس تاریخ کے بعد ایران پرعاید کردہ معاشی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والی عالمی کمپنیوں کو بھی امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خبر رساں دارے ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ کے مطابق امریکی سینٹ کے ارکان نے یورپی یونین کے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ چار اگست کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون کے نتائج کو سامنے رکھیں۔ری پبلیکن پارٹی کے 10 ارکان کی طرف سے جاری یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں کو مکتوب ارسال کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس بات پر تشویش ہے کہ بعض یورپی ممالک واشنگٹن کی طرف سے تہران پر عاید کی جانے والی پابندیوں کے نفاذ میں عدم تعاون کریں گے۔یورپی سفیروں کو بھیجے گئے مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر عاید کی جانے والی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کے ساتھ امریکہ کے رابط متاثر ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکہ نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کے بعد اٹھائی گئی پابندیان چار اگست سے دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کا پہلا مرحلہ چار اگست اور دوسرا چار نومبر 2018ء کو بحال کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں