بیرون ملک میڈلس جیتنے والوںسے حکومت کی بے اعتنائی

شہرحیدرآباد میں ایسی بے شمار شخصیوں نے جنم لیا جنہوں نے اپنے شہر‘ اپنے والدین اور اپنے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔ موتیوں کے شہر کے نام سے مشہور اس سرزمین نے ملک کو بے شمار سیاستداں‘ فلمی اداکار‘ گلوکاروں کے علاوہ بہترین اتھلیٹس بھی فراہم کئے ہیں جن میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کامیاب ترین کپتان محمد اظہرالدین‘ آف اسپنر ارشد ایوب‘ بائیں ہاتھ کے اسپنر وینکٹ پتی راجو‘ وی وی ایس لکشمن‘ بیاڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال‘ پی وی سندھو اور ٹینس کی دنیا میں بے شمار کامیابیاں سمیٹنے والی ثانیہ مرزا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے کرکٹ محمد سراج نے بھی آئی پی ایل اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ بناتے ہوئے اپنے شہر خاص طورپر پرانے شہر کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا۔ ایسے ہی اتھلیٹس میں سے ایک تجربہ کار باڈی بلڈر عیسیٰ مصری بھی ہیں جن کا تعلق پرانے شہر سے ہے۔ عیسیٰ مصری نے 2016 میں امریکہ کے شہر فلوریڈا میں ہوئے مسکل مینیا یونیورس مقابلوں میں سلور میڈل حاصل کیاتھا۔ اب ان کے 2 بیٹوں کو بھی تربیت دی جارہی ہے جو پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر کامیابی درج کرچکے ہیں۔ عالمی سطح پر شاندار کارناموں کے باوجود انہیں حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی مدد فراہم نہیں ہوئی ہے۔ اس موقع پر تجربہ کار باڈی بلڈر عیسیٰ مصری نے حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ ملک کیلئے زائداز 20 برسوں سے میڈلس جیت رہے ہیں تاہم انہیں یا ان کے لڑکوں کو حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی امداد تو دور کی بات ہے انہیں مبارکبادی کا پیام تک وصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہ ملنے کے باوجود میں ہمیشہ مقابلوں میں حصہ لیتا رہاہوں اور اب میرے لڑکے بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر حکومت ان کی مدد کرتی ہے تو ان کے اور ان کے لڑکوں کیلئے یہ سفر مزید آسان ہوسکتاہے اور وہ مزید بہتر کارکردگی پیش کرتے ہوئے اپنے شہر‘ اپنی ریاست اور اپنے ملک کا مزید نام روشن کرسکتے ہیں۔ عیسیٰ مصری نے مزید بتایاکہ انہوں نے 2016 میں میامی میں ہوئے مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے ان پر اور ان کے دونوں لڑکوں پر فی کس 2,2 لاکھ روپے خرچ کئے جبکہ 2017 میں لاس ویگاس میں ہوئے باڈی بلڈنگ مقابلوں میں بھی حصہ لینے کیلئے انہیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے لڑکوں عثمان بن عیسیٰ مصری اور احمد مصری نے مسکل مینیا جونیر اور مسکل مینیا فزیکس زمروں میں چوتھا مقام حاصل کیاتھا۔ واضح رہے کہ مسکل مینیا ایونٹ میں دنیا بھر سے 300 سے زائد باڈی بلڈرس نے حصہ لیا تھا۔ ایونٹ کی خاص بات یہ تھی کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ان مقابلوں میں باپ اور بیٹوں نے ایک ساتھ حصہ لیا اور اعلیٰ مقام بھی حاصل کیا۔ عثمان بن عیسیٰ مصری اور احمد مصری نے جون میں ہونے والے عالمی سطح کے مقابلوں میں شرکت کیلئے ٹریننگ کی تھی تاہم مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔
حکومتوں کا یہ فریضہ ہوتاہے کہ وہ مذہب اور ذات پات کی پرواہ کئے بغیر ابھرتے نوجوان کھلاڑیوں اور اتھلیٹس کی بھرپور رہنمائی کرے تاکہ وہ آگے چل کر اپنی ریاست اور ملک کا نام روشن کریں۔ ہمیں توقع ہے کہ عیسیٰ مصری اور ان کے لڑکوں کو جلد ہی حکومت کی جانب سے مناسب مدد فراہم کی جائے گی۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *