رافیل معاملت میں بغیر لائسنس ریلائنس کو آف سیٹ کنٹراکٹ :رندیپ سرجے والا

رافیل جنگی جیٹس کی معاملت پر نریندر مودی حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کانگریس نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ ملک کو یہ بتائیں کہ کیوں 30 ہزار کروڑ روپئے کا آفسیٹ کنٹراکٹ بغیر لائسنس کے ریلائنس کو دیا گیا ، جب کہ اراضی اور عمارت اس کے لیے تیار نہیں کی گئی تھی۔ پارٹی ارکانِ پارلیمان ناصر حسین اور آمی یاجنک اور آئی سی سی ترجمان خاتون ترجمان پرینکا چترویدی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی سی سی میڈیا انچارج رندیپ سرجے والا نے بھی وزیر دفاع نرملا سیتا رامن پر الزام عائد کیا کہ وہ ریلائنس کو دیئے گئے آفسیٹ کنٹراکٹ کے بارے میں دروغ گوئی کررہی ہے۔ سرکاری پبلک سیکٹر کے تحت کام کرنے والی کمپنی ہندوستان ایروناٹک لمٹیڈ (ایچ اے ایل) نے 36 ہزار کروڑ آفسیٹ کنٹراکٹ کو بشکل ورک شیئر اگریمنٹ کے تحت دستخط 13 مارچ 2014ء کو کیے تھے ، جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار اپنے طور پر ہی آفسیٹ خریدی کا اعلان کیا تھا کہ 36 رافیل طیارے 10 اپریل 2015ء کو خریدے گئے ہیں۔ پی ایس یو ایچ اے ایل نے اچانک اب تک کے سب سے بڑے دفاعی آفسیٹ کنٹراکٹ کی تردید کردی ۔ ڈیفنس آفسیٹ کنٹراکٹ ایک خانگی کمپنی کو چلا گیا ، جو کہ ریلائنس ڈیفنس لمیٹڈ ہے ، جس کو جنگی طیارہ بنانے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ریلائنس ڈیفنس لمیٹڈ نے 12 دن قبل (28 مارچ 2015ء کو) 36 رافیل طیاروں کی خریداری وزیر اعظم کی جانب سے فرانس میں 10 اپریل 2015ء کی خریدی سے 12 دن قبل کی تھی ۔ ریلائنس ڈیفنس لمیٹڈ کے پاس جنگی طیارہ بنانے کا لائسنس نہیں تھا۔ ریلائنس ایرواسٹرکچر لمیٹڈ کو جنگی طیارہ بنانے کا لائسنس وزارتِ دفاع نے دیا ، جب کہ اس کے پاس نہ ہی کوئی اراضی ہے اور نہ عمارت۔ تب اسے 22 فروری 2016ء کو لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ حقیقت یہ رہی کہ ریلائنس ایرواسٹرکچر لمیٹڈ نے 24 اپریل 2015ء کو یعنی 14 دنوں میں 36 رافیل طیاروں کی خریداری کا اعلان وزیر اعظم نے 10 اپریل 2015 کو کیا تھا۔ اب وزیر اعظم کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ ملک کو اس بات کا جواب دیں کہ کمپنی کو کیوں آفسیٹ کنٹراکٹ بغیر لائسنس کے دیا گیا ، جو طیارہ بنانے کا تجربہ نہیں رکھتی اور اراضی اور بلڈنگ بھی اس کے پاس دستیاب نہیں تھیں۔ سرجے والا نے یہ بات کہی ۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رامن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ وہ آفسیٹ معاملت پر دروغ گوئی کررہی ہیں ، جو ریلائنس کو دیا گیا۔ اس میں کنٹراکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی گئی ۔ ریلائنس ڈیفنس لمیٹڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آفسیٹ کنٹراکٹ ڈسالٹ ای وی ایشن سے تیس ہزار کروڑ روپئے کے عوض حاصل کیا اور اس کے بعد لائف سائیکل کاسٹ کنٹراکٹ بھی ڈسالٹ ای وی ایشن کو دیا گیا ، یہاں تک ڈسالٹ اے وی ایشن کی سالانہ رپورٹ 2016-17 میں دعویٰ کیا گیا کہ ریلائنس کی جانب سے آفسیٹ کنٹراکٹس انجام دیا گیا۔ ریلائنس کو دیے گئے کنٹراکٹس میں قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز انکشافات اور ثبوت سے مزید یہ واضح ہوا کہ منظوری ڈیفنس آفسیٹ کنٹراکٹس میں میں ہوئی ہے ، جس کے لیے منیجر ڈیفنس وزارت اور ڈیفنس اکوزیشن کونسل نے مکمل طور پر معاہدہ کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کی ہے۔

جواب چھوڑیں