مفرور این آر آئی شوہروں کو پکڑنے نئی پورٹل۔سمن کا جواب نہ دینے پر جائیداد ضبط:سشما سوراج

وزارت خارجہ ایک پورٹل ڈیولپ کررہی ہے جس پر مفرور این آر آئی شوہروں پر سمن اور وارنٹ کی تعمیل ہوگی۔ ملزم نے جواب نہیں دیا تو اسے اشتہاری مجرم قراردیا جائے گا اور اس کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔ مرکزی وزیر سشما سوراج نے آج یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پورٹل کے لئے کوڈ آف کریمنل پروسیجر (سی آر پی سی/ ضابطہ فوجداری ) میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ ترمیم کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو ایسے سمن اور وارنٹ پورٹل پر ڈالنے کے بعد یہ مان لینے کی اجازت ہوگی کہ ان کی تعمیل ہوگئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت ِ قانون‘ قانون ساز اسمبلی‘ وزارت ِ داخلہ اوروزارت بہبودی خواتین و اطفال اس تجویز پر آمادہ ہوگئی ہیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ پورٹل کا مقصد ایسی این آر آئی شادیوں کی روک تھام ہے جس میں شوہر اپنی بیویوں کو چھوڑدیتے ہیں یا شادی کے بعد بیرون ملک انہیں ذہنی یا جسمانی طورپر ہراساں کرتے ہیں۔ وزارت ِ خارجہ کے بموجب گذشتہ 3 برس میں (جنوری 2015 تا نومبر 2017) 3328 شکایتیں ملیں کہ این آر آئی شوہروں نے اپنی ہندوستانی بیویوں کو چھوڑدیا۔ دھوکہ کی ایسی شادیوں کی روک تھام کے لئے وزارت خارجہ پورٹل بنارہی ہے جہاں مفرور این آر آئی شوہروں کے خلاف سمن اور وارنٹ کی تعمیل ہوگی۔ ملزم نے جواب نہیں دیا تو اسے اشتہاری مجروم قراردیا جائے گا اور اس کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔ ضبطی قانونی عمل ہوگی جس کے تحت بیوی کی گذارش پر شوہر کی جائیداد اس کے نام کردی جائے گی یا فروخت کرکے رقم بیوی کو دے دی جائے گی۔ سشما سوراج نے کاہ کہ ہم کوشش میں ہیں کہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں ترمیم منظور ہوجائے۔ وہ این آر آئی میاریجس اینڈ ٹریفکنگ آف ویمن اینڈ چلڈرن کے موضوع پر نئی دہلی میں قومی کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ایک بین وزارتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی نگراں وزارتِ بہبودی خواتین و اطفال کو بنایا گیا ہے۔ کمیٹی میں وزارت ِ قانون اور وزارت خارجہ کے ارکان شامل ہیں اور اس کی سفارش پر 8مفرور شوہروں کے خلاف لُک آؤٹ نوٹس جاری ہوئی اور ان کے پاسپورٹ منسوخ کئے گئے۔ ان شوہروں نے خود کو قانون کے حوالہ کردیا۔ وزارت ِ بہبودی خواتین و اطفال کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کمیٹی کو گذشتہ 2ماہ میں 70 شکایتیں ملیں جن پر قومی خواتین کمیشن نے تحقیقات کیں اور 8 پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔

جواب چھوڑیں