ٹرکوں کی ہڑتال سے معیشت کو 50 ہزار کروڑ کا نقصان

 لاریوں کی جاریہ ملک گیر ہڑتال سے معیشت کو راست اور بالواسطہ 50 ہزار کروڑسے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ ٹرانسپورٹرس کو بات چیت کے ذریعہ اس بحران کی یکسوئی کرلینی چاہئے۔ اسوچم کے بیان میں جمعہ کو یہ بات کہی گئی۔ لگ بھگ 90 لاکھ ٹرک 20 جولائی سے سڑکوں سے غائب ہیں۔ ٹرک مالکین ‘ ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں چنگی برخواست کردی جائے اور تھرڈپارٹی انشورنس کا پریمیم گھٹایا جائے۔ اسوچم کے سکریٹری جنرل ڈی ایس راوت نے ایک بیان میں کہا کہ چھوٹی اور متوسط صنعتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ دیگر شعبوں پر بھی غیرمعینہ مدتی ہڑتال کا اثر پڑنے لگا ہے۔ ملک کی معیشت کو 50 ہزار کروڑ سے زائد کا راست اور بالواسطہ نقصان پہنچ چکا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹرانسپورٹرس کے حقیقی مطالبات مان لے کیونکہ ٹرک چلانے کے اخراجات کافی بڑھ گئے ہیں۔ ڈی ایس راوت نے کہا کہ ہم ہڑتالی یونینوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں۔ وہ صنعت کے مجموعی مفادمیں قابل قبول حل تلاش کرنے پر توجہ دیں۔ ملک کے مختلف حصوںمیں سیلاب کے باعث جلد سڑ جانے والی اشیا کی سپلائی پہلے ہی درہم برہم ہوچکی ہے اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ٹرک مالکین کے مطالبات میں ٹی ڈی ایس کی برخواستگی‘ انکم ٹیکس کو معقول بنانا‘ ای وے بل اور ٹورسٹ بسوں کے قومی پرمٹ میں آسانی اور راست پورٹ ڈیلیوری ٹنڈرنگ سسٹم کا خاتمہ شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں