پاکستان میں تشکیل حکومت کی کوششیں تیز۔عمران خان کی پارٹی کا آزاد امیدواروں سے ربط

کرکٹر سے سیاستداں بنے عمران خان کی پارٹی آج واحد بڑی جماعت بن کر ابھری۔ اس نے 270کے منجملہ 114 نشستیں حاصل کیں لیکن وہ واضح اکثریت سے محروم ہے۔ اسے چھوٹی جماعتوں یا آزاد امیدواروں کی تائید حاصل کرنی ہوگی۔ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بعد پاکستان مسلم لیگ۔ نواز(پی ایم ایل این) دوسرے نمبر پر رہی جسے 62 نشستیں حاصل ہوئیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کو 43 نشستیں ملیں۔ 12 آزاد امیدوار کامیاب رہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی(پارلیمنٹ) 342 رکنی ہے ۔ اس میں 272 ارکان کا انتخاب راست عمل میں آتا ہے ۔ تشکیل حکومت کے لئے 172 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے ۔ اس نے 131 رکنی ایوان میں 74 نشستیں جیت لی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف 22 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور ایم کیو ایم 16 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی جماعت کو دوتہائی اکثریت مل گئی۔ بلوچستان میں نئی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔آئی اے این ایس کے بموجب عمران خان کی جماعت نے جمعہ کے دن تشکیل حکومت کے لئے شراکت داروں کی تلاش شروع کردی۔ پولنگ ختم ہونے کے 40 گھنٹے بعد بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ 65 سالہ عمران خان ‘ ملک کے 19 ویں وزیراعظم بننے والے ہیں۔ انہیں 272کا نصف یعنی 137 نشستیں درکار ہیں۔ 2 حلقوں میں چونکہ الیکشن نہیں ہوا اس طرح انہیں کم ازکم 136 ارکان کی تائید درکار ہے۔ 6 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ان سبھی میں عمران خان کی پارٹی آگے چل رہی ہے۔ یہ 6 نشستیں عمران خان کی مان لی جائیں تب بھی انہیں 16 ارکان کی تائید حاصل کرنی ہوگی۔ نامعلوم ذرائع کے حوالہ سے میڈیا میں خبریں آئی ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے 20 آزاد امیدواروں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے 6 نشستیں جیتی ہیں ۔ وہ عمران خان کی تائید پر آمادہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ‘ صوبہ خیبر پختونخواہ میں اقتدار پر لوٹی ہے۔ اس نے نواز شریف خاندان کے روایتی گڑھ پنجاب میں 123 نشستیں جیتی ہیں جبکہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کو 127 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ 297 رکنی پنجاب اسمبلی میں تشکیل حکومت کے لئے کسی بھی پارٹی کو 149 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ پنجاب‘ پاکستان کا امیر ترین اور بہ لحاظ آبادی ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز دونوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں پنجاب میں اپنی حکومت کا یقین ہے۔ صوبہ پنجاب 1988 سے نواز شریف خاندان کے زیراقتدار رہا ہے۔ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں دھاندلیوں اور فوج کی مداخلت کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ نواز شریف کی جماعت اور آصف علی زرداری کی جماعت کے علاوہ دیگر چھوٹی جماعتوں نے نتائج کو ماننے سے انکار کردیا ہے لیکن انہوں نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورنے ٹویٹ کیا کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ قرآن کے حوالہ سے انہوں نے جو یہ بات کہی اسے سوشیل میڈیا پر کئی لوگوں نے عمران خان کو فوج کی تائید کی توثیق قراردیا ہے۔

جواب چھوڑیں