پاکستان پیپلز پارٹی کے مہیش ملانی پہلے ہندو رکن پارلیمنٹ

پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے مہیش کمار ملانی ‘ قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والے پہلے ہندوامیدوار بن گئے ہیں۔ غیرمسلموں کو ووٹ دینے اور عام نشستوں پر الیکشن لڑنے کی اجازت کے 16 سال بعد انہوں نے یہ جیت حاصل کی ہے۔ ملانی نے جنوبی صوبہ سندھ کی نشست تھرپارکر II(این اے ۔222 ) سے جیت حاصل کی۔ انہوں نے 14 امیدواروں کو ہرایا۔ ڈان نے یہ اطلاع دی۔ انہیں ایک لاکھ 6 ہزار 630 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف عظیم جمہوری اتحاد کے ارباب ذکا اللہ کو 87 ہزار 251 ووٹ حاصل ہوئے۔ پاکستانی ہندو راجستھانی پشکرما برہمن سیاستداں مہیش کمار ملانی 2003-2008 میں رکن پارلیمنٹ تھے۔ محفوظ نشست پر پی پی پی نے انہیں نامزد کیا تھا۔ 2013 میں ملانی سندھ اسمبلی کی عام نشست تھرپارکر III جیت کر صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے پہلے غیرمسلم رکن بنے تھے۔ وہ سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذا کے صدرنشین بھی رہے۔ غیرمسلموں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی عام نشستوں پر الیکشن لڑنے اور ووٹ دینے کا حق 2002 میں ملا تھا۔ اُس وقت کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اس کے لئے آئین میں ترمیم کی تھی۔ غیرمسلموں کے لئے سینیٹ (پاکستانی پارلیمنٹ کا ایوان ِ بالا) ‘ قومی اسمبلی (پاکستانی پارلیمنٹ کا ایوان ِ زیریں) اور صوبائی اسمبلیوں میں محفوظ نشستیں بھی موجود ہیں۔ قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لئے 10 نشستیں محفوظ ہیں۔ پاکستان میں خواتین اور غیرمسلموں کو الیکشن جیتنے کے دو مواقع ملتے ہیں۔ جاریہ سال مارچ میں تھرپارکر سے پاکستان پیپلز پارٹی کی کرشنا کماری‘ سینیٹ کے لئے منتخب ہونے والی پہلی ہندو خاتون بنی تھیں۔

جواب چھوڑیں