ہرشے کے پیاک پر یکساں لیبل کا لزوم:اکون سبھروال

کمشنر سیول سپلائز اور کنٹرولر لیگل میٹرولوجی اکون سبھروال نے کہا کہ تمام مینو فیکچرس اور پیاکرس کو پیاکڈایٹمس ( ڈبہ بند چیزوں) پر ’’ یکساں لیبل‘‘ چسپاں کرنا ہوگا جس کا اطلاق رواں سال31جولائی سے ہوگا ۔ 31جولائی سے کسی بھی شے کو تیار کرنے والے اور اسکوپیاک کرنے والوں (پیاکرس) کوڈبوں ( پیاک ایٹمس) پر یکساں لیبل لگانا ہوگا ۔ فیڈریشن آف تلنگانہ آندھرا پردیش چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ( ایف ٹی اے پی سی سی آئی ) میں آج منعقدہ مینو فیکچرس اور پیاکرس کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکون سبھروال نے حروف اور لیبل کے سائز کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لیبل پر تیار کنندہ کا نام، پتہ ، ہونا چاہئے اور اس لیبل کو ہر پیاک پر چسپاں کرنا ہوگا۔ امپورٹ پیاک پر بھی اس کا اطلاق ہوگا ۔ ہر ایک پیاک پر اسکو چسپاں کرنا ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ اگر کوئی برانڈاونر، برانڈنام اور ایڈریس کا مارکیٹنگ کرتے ہوئے پایا گیا تو وہ اصول وضوابط کی خلاف ورزی کا خود ذمہ دار ہوگا اور اس کے خلاف ڈیمڈمینوفیکچر کے طور پر کاروائی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام غذائی اشیاء کے پیاکوں پر پری ونشن آف فوڈ اڈلٹریشن ایکٹ1954 کے تحت یکساں لیبل ہونا چاہئے ۔ پیاک پر شے کی حقیقی مقدار ، وزن، چیز کی کہاں پیاکنگ ہوئی ، پیاکٹ میں چیزوں کی تعداد اور دیگر امور کی صراحت کرنا ضروری رہے گا ۔ مینوفیکچر کا ماہ، سال، پری پیاکڈ، امپورٹ کا اندراج بھی ہونا چاہئے ۔ لیبل پر شے کو استعمال کرنے کی تاریخ ، سال بھی درج ہونی چاہئے ۔ لیبل پر کسی بھی چیز کی تمام ٹیکسوں کے بشمول قیمت فروخت (ایم آر پی ) دائرہ میں تحریر کرنا ہوگا ۔ اس اجلاس میں ڈائرکٹر میٹرولوجی ، بی این ڈکشٹ اور دیگر موجود تھے ۔این ایس ایس کے بموجب کمشنر سیول سپلائز وکنٹرولر میٹرولوجی اکون سبھروال نے کہا کہ کسانوں کو معیاری اور بہتر مقدار میںتخم سربراہ کئے جائیں تو یہ کسانوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا ۔ کسان، خوشحال رہیں گے تو ملک کی معاشی ترقی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا ۔ حکومت تلنگانہ ، کسانوں کی بہبود اور ان کی ترقی کیلئے تمام تر اقدامات کررہی ہے ۔ انہوںنے سیڈس کمپنیوں کو معیار اور مقدار کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ انہیں محکمہ اوزان وپیمائش کے رہنمایانہ خطوط کی پاسداری کرنی چاہئے ۔ محکمہ کی جانب سے ماہ مئی میں دھاوے کرتے ہوئے کئی بدعنوانیوں کے معاملات کو منظر عام پر لائے گئے اس دوران 2.35کروڑ مالیت کے تخم کو ضبط کرلیاگیا تھا ۔ اور تاجروں کے خلاف تقریباً154 معاملے درج کئے گئے تھے۔ یہاں ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ٹریڈرس کی بدعنوانیوں اور دھاندلیوں کی کئی شکایتیں وصول ہوتی ہیں۔ تب محکمہ کی جانب سے دھاوے کئے جاتے ہیں۔ دھاؤوں کے دوران مینوفیکچرینگ اور استعمال کی تاریخ ، بیاگس پر درج نہیں تھی ۔بعض اوقات، ان چیزوں کی فروخت کیلئے لائسنس بھی نہیں تھا۔ انہوںنے ٹریڈرس کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ اوزان وپیمائش کے رہنمایانہ خطوط کی پابندی کریں ۔

جواب چھوڑیں