جنوبی ایشیاء کو دہشت گردی سے پاک کرنے پاکستان سے توقعات

پاکستان میں منعقدہ عام انتخابات پر ہندوستان نے آج اپنے پہلے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی نئی حکومت ’’ دہشت گردی اور تشدد سے پاک‘‘ ایک محفوظ ‘ مستحکم اور سلامتی کے حامل جنوبی ایشیاء کی تعمیر کیلئے مثبت قدم اٹھائے گی۔ ہندوستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان کو خوشحال و ترقی پسند دیکھنا چاہتا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہاکہ ہندوستان‘ اِس بات کا خیر مقدم کرتا ہے کہ پاکستان کے عوام نے عام انتخابات کے ذریعہ جمہوریت پر اپنے یقین کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوںنے کہاکہ ’’ ہندوستان‘ ایک ایسے خوشحال وترقی پسندپاکستان کا خواہاں ہے جو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہے‘‘۔ہندوستان یہ بھی کہتا آرہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل کی یکسوئی کی خاطر بامعنیٰ بات چیت کیلئے پاکستان کی سرزمین سے دہشت پسندانہ کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان کے امکانی وزیر اعظم عمران خان نے اگرچہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت کیلئے اپنے آمادگی ظاہر کی ہے‘ فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان‘ پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو اِن دوپڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں کسی بہتری کا بہت کم امکان ہے۔ اِن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے سابق کرکٹر کو آگے بڑھایا ہے اور ہندوستان کے تعلق سے پاکستان کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا ا مکان نہیں ہے۔ سابق سفارتکار جی پارتھا سارتھی نے جنہوںنے اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمشنر ہند کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں ‘ کہاکہ عمران خان ‘ فوج کے آدمی ہیں۔ امکان ہے کہ وہ( خان) وہی کریں گے جو فوج اُن سے کہتی ہے ۔ ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل دیپک کپور نے کہا ہے کہ اُنہیں اِس بات کی توقع نہیں ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان‘ ہندوستان کے ساتھ اپنی بالواسطہ جنگ روکے گا۔

جواب چھوڑیں