رائے گڑھ میں بس کھائی میں گرپڑی‘ 33افراد ہلاک

رائے گڑھ ضلع میں ہفتہ کی صبح تقریباً تین درجن یونیورسٹی ملازمین کو لے جارہی ایک خانگی بس کھائی میں گرپڑی جس کے نتیجہ میں 33مسافرین کی موت ہوگئی۔ رائے گڑھ پولیس کنٹرول کے عہدیدار پی ڈی پاٹل نے کہا کہ کونکن زرعی یونیورسٹی رتنا گری کے تقریباً 35ملازمین‘ جن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں، مقبول سیاحتی مرکز مہابلیشور۔پنچ گنی میں پکنک منانے جارہے تھے کہ پولداپور کے قریب صبح 9بجے بس اچانک 200فٹ گہری کھائی میں گرپڑی۔ مغربی گھاٹوں میں شدید بارش اور دوردراز علاقہ میں ناقص رابطہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائی شدید متاثر ہوئی۔ پاٹل نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 10نعشوں کو نکالا گیا اوردیگر افراد کو بچانے یا مزید نعشوں کو نکالنے کی کوشش جاری ہے۔ یہ حادثہ اس وقت منظرعام آیا جب ایک زخمی مسافر اوپر چڑھنے میں کامیاب ہوا اور حکام کو اطلاع دی۔ پونے سے نیشنل ڈیزاسٹر کو جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔ یو این آئی کے بموجب امبینالی گھاٹ پر 250-300فٹ گہری کھائی میں خانگی بس گرنے سے کم از کم 33افراد کی کی موت ہوگئی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بس حادثہ میں ہونے والی اموات پر اظہار رنج کیا مودی نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں کہا کہ ’’مہاراشٹرا کے رائے گڑھ میں بس حادثہ میں ہوئی اموات پر مجھے دکھ ہے۔ میں لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ پی ٹی آئی کے بموجب رائے گڑھ ضلع میں بس حادثہ میں 33افراد کی موت پر اظہار رنج کرتے ہوئے چیف منسٹر دیویندر پھڈنویس نے کہا کہ انتظامیہ تمام ضروری امداد فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ میں مہلوکین کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور زخمیوں کی عاجلانہ صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ کانگریس صدر راہول گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ رائے گڑھ کے دلخراش بس حادثہ کی خبر سن کر بے حد دکھ ہوا جس میں کئی افراد کی موت اور دیگر کئی زخمی ہوگئے۔ میں علاقہ کے کانگریس پارٹی کارکنوں سے مہلوکین کے لواحقین اور زخمیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ریاستی کانگریس صدر اشوک چوان نے کہا کہ بس حادثہ سے متعلق جان کر بے حد دکھی ہوں۔ مہلوکین کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن دھننجے منڈے کہا کہ یہ حادثہ افسوسناک ہے۔ مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

جواب چھوڑیں