مودی‘ عمران خان کی دوستی کی پیشکش قبول کرلیں: محبوبہ مفتی

سابق چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سربراہ عمران خان کی دوستی کی پیشکش قبول کرلیں تاکہ ریاست میں خون خرابہ ختم ہو۔ کرکٹر سے سیاستداں بنے عمران نے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان‘ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے تیار ہے اور ان کی حکومت چاہے گی کہ دونوں ممالک کے قائدین بات چیت کے ذریعہ تمام مسائل بشمول مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کریں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں وزیراعظم مودی سے اپیل کرتی ہوں۔ پاکستان میں نئی حکومت بننے والی اور نیا وزیراعظم کمان سنبھالنے والا ہے جس نے ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ عمران نے بات چیت کی بات کہی ہے۔ مودی کو مثبت جواب دینا چاہئے۔ میری درخواست ہے کہ مودی موقع کا فائدہ اٹھائیں اور عمران خان کی دوستی کی پیشکش کا مثبت جواب دیں۔ محبوبہ مفتی سری نگر میں اپنی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کے 19 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک ریالی سے خطاب کررہی تھیں۔ پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ آنے والا الیکشن پاکستان کے ساتھ صلح صفائی میں رکاوٹ نہ بنے۔ الیکشن آتے جاتے رہتے ہیں ۔اُس وقت کے وزیراعظم اے بی واجپائی نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ انہوںنے سرحدوں پر لڑائی بندی کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ یہ سیاسی تدبر ہے۔ ایسے قائدین الیکشن کی نہیں بلکہ عوام کی سوچتے ہیں۔ جموں و کشمیر ہمارے ملک کے وزرائے اعظم کے لئے سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو وزیراعظم مسئلہ کشمیر حل کرے گا اور ریاست میں خون خرابہ کا خاتمہ کرے گا اس کا نام تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر انسانیت کے دائرہ میں حل کرنے‘ ریاست میں خون خرابہ کا خاتمہ کرنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے والے وزیراعظم کا نام تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ چیف منسٹری میں مودی سے کہا تھا کہ پاکستان اورریاست کے عوام دونوںسے بات چیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی تھی کہ این آئی اے کے ہاتھوں گرفتار حریت قائدین کو عید پر رہا کیا جائے۔ مودی حکومت اگر علیحدگی پسندوں کو بات چیت کی میز پر لانا چاہتی ہے تو یہ خیرسگالی اقدام بنے گا۔ اپنے دورِ چیف منسٹری میں شہریوں کی ہلاکتوں پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ روزانہ جھڑپیں ہوتی تھیں جس کے نتیجہ میں ہلاکتیں ہوتی تھیں۔ میرے ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ جو میرے اختیار میں تھا وہ میں نے کیا۔ ہم نے مرکز سے اعلان ِ لڑائی بندی کروایا اور ہلاکتیں رکیں۔ جموں وکشمیر کے خصوصی موقف کو درپیش چیلنج پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی ‘ بی جے پی سے یہ وعدہ لینے میں کامیاب رہی کہ آرٹیکل 370 کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔ سبھی جماعتوں کو اس کے تحفظ کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ سابق چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ انہیں پرامن طورپر کام کرنے نہیں دیا گیا۔ 8 جولائی 2016 سے کوئی دن ایسا نہیں گذرا کہ انہیں پرامن طورپر کام کرنے دیا گیا ہو۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ گذشتہ 2 برس میرے لئے دردِ سر بنے رہے کیونکہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہوجاتا تھا ۔

جواب چھوڑیں