ہمیشہ سچ بولنے اور دیانت داری اختیار کرنے کی ضرورت۔طلبہ کو گورنر کی نصیحت

آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے آج طلبہ ونوجوانوں کو ہدایت دی کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں اور دیانت داری کے ساتھ زندگی گذاریں ۔ ان باتوں کا سب سے زیادہ اطلاق لاگریجویشن کے طلبہ پر ہوتا ہے ۔ نلسار لا یونیورسٹی کے 16 ویں کانوکیشن سے جو ہفتہ کو یہاں منعقد ہوا، خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ قانون اور انصاف کے نظام میں آزادی اور مساوات ہونی چاہئے ۔ گڈگورننس میں عدلیہ کا اہم رول ہوتا ہے انہوںنے کہا کہ سماج میں ماحول کے تحفظ ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، صنفی انصاف، تعلیمی اصلاحات جیسے مسائل روز کا معمول ہوتے ہیں۔ انہوں نے نلسار یونیورسٹی پر زور دیا کہ وہ عام افراد میں قانون سے متعلق شعور بیدار کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔ انہوںنے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اخلاق کا مجسم بنیں، اقدار سے کبھی بھی سمجھوتہ نہ کریں۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں شخصی ایجنڈہ کو ترجیح نہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے۔ مقدمہ کی سماعت یومیہ اساس پر ہونی چاہئے ۔ انصاف میں تاخیر سے عوام کا عدلیہ اور قانون سے اعتماد ختم ہوجائے گا۔ ریاستی گورنر ای ایس ال نرسمہن نے کانوکیشن کی تقریر میں مزید کہا کہ کمزور اور انتہائی کمزور کے خلاف قانون بہت طاقتور ہے جبکہ طاقتور اور بااثر لوگوں کے خلاف قانون کمزور ہے ۔ انہوں نے یونیورسٹی کی ترقی کی ستائش کی ۔ انہوںنے کہا کہ ایڈمنسٹریشن کو انصاف دلانے میں عدلیہ کا اہم رول ہوتا ہے ۔ نرسمہن نے کہا کہ عدلیہ کو انسانی حقوق اور تبدیلی موسم کے بارے میں فیصلے صادر کرتے وقت سماج کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ آئین کی پاسداری ، قانون کی حکمرانی اور استحکام کی برقراری دیگر کے بہ نسبت بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ چیف جسٹس حیدرآباد ہائی کورٹ جسٹس رادھا کرشنن جو ، نلسار یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، کانوکیشن کی صدارت کی اور انہوںنے کامیاب طلبہ میں اسناد بھی تقسیم کئے ۔ اس پروگرام میں ریاستی وزیر قانون اے اندرا کرن ریڈی ، سپریم کورٹ کے سابق ججس جسٹس ایس ایس ایم قادری، اور جسٹس پی وینکٹ رام ریڈی مہمانان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ نلسار یونیورسٹی کو اے گریڈ کا موقف حاصل ہوا ہے ۔ این اے اے سی اور یو جی سی کی ریکنگ میں نلسار کو ملک کی دیگر قومی لا یونیورسٹیوں میں سرفہرست مقام حاصل ہے ۔ کانوکیشن پروگرام کے دوران چانسلر نے 409 طلبہ میں ڈگری اور ڈپلومہ کے اسناد عطا کئے ۔

جواب چھوڑیں