بین مذہبی جوڑے کو جدا کرنے پر دہلی پولیس کی سرزنش

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس پربرہمی ظاہرکی کہ اس نے یہ جاننے کے باوجود ایک بین مذہبی جوڑے کو جدا کردیاکہ ہندومرد سے اپنی مرضی سے شادی کرنے والی مسلم خاتون کی عمر 21 برس سے زائد ہے۔ جسٹس ایس مرلیدھر اور جسٹس ونود گوئل پرمشتمل بنچ نے دہلی پولیس سے ان الزامات کی وضاحت چاہی کہ اس نے شوہر کو کسی عدالت میں پیش کئے بغیر 3 تا 5جولائی پولیس لاک اپ میں بند رکھا۔ عدالت نے یہ حکم درخواست حبس بیجا پر دیا جو اپنی بیوی کا اتہ پتہ ڈھونڈنے والے مرد نے داخل کی تھی۔ اس جوڑے کی شادی اترپردیش کے غازی آباد میں 28جون 2018ء کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے وہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) کیمپس میں شوہر کے مکان میں رہ رہا تھا۔ 3جولائی کو رات لگ بھگ 8بجے پولیس جے این یو سیکیوریٹی اور دیگر سادہ لباس میں ملبوس افراد کے ساتھ پہنچی اور عورت کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اس نے شوہر کو پولیس کے حوالے کردیا۔ شوہر کو غازی آباد کے لونی پولیس اسٹیشن لے جایاگیا اور تین دن لاک اپ میں رکھاگیا۔ شوہر کا الزام ہے کہ اسے گالیاں دی گئیں اور مارا پیٹا گیا اسے دھمکایاگیا کہ اس نے دوبارہ اپنی بیوی سے ملنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف عصمت ریزی کاجھوٹا کیس کردیاجائے گا۔ لونی پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے بھائی کی اس شکایت کے بعد پولیس حرکت میں آئی تھی کہ اس کی بہن لاپتہ ہے۔ عدالت نے پولیس سے وضاحت طلب کی کہ وہ یہ بتائے کہ وہ یہ جاننے کے باوجود کیوں حرکت میں آئی کہ مذکورہ خاتون بالغ ہے اور اپنی زندگی کے فیصلہ خودکرسکتی ہے۔ بنچ نے خاتون سے اپنے چیمبر میں ملاقات کی۔ اس نے ججس کو بتایاکہ اُس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور یہ شادی غازی آباد میں رجسٹرڈ ہے۔ مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کے لئے عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جوڑے کو اوران کے خاندان کو سیکیوریٹی فراہم کرے۔ عدالت نے سماعت کی اگلی تاریخ 7اگست مقرر کی۔ بنچ نے نوجوان عورت کی ماں سے بھی بات چیت کی اور اسے بتایاکہ اسے شاید دوسرے مذہب والے سے اپنی بیٹی کی شادی گوارا نہ ہو‘ لیکن بالغ لڑکی اپنی زندگی کے فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ لڑکی کی ماں نے عدالت سے کہا کہ اب وہ اپنی لڑکی پر چھوڑتی ہے کہ وہ جیسے چاہے اپنی زندگی بسر کرے۔ نوجوان خاتون نے شوہر کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہرکی جس پر بنچ نے اسے اپنے شوہر کے ساتھ جانے دیا جو اس وقت کمرۂ عدالت میں موجود تھا۔

جواب چھوڑیں