ترکی نے امریکی صدر کی دھمکی کو مسترد کر دیا

ترک صدر رجب طیب اردغان نے امریکی صدر کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک انے موقف پر کھڑا رہے گا۔صدر ٹرمپ نے دو روز پہلے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے امریکی پادری کو رہا نہ کیا تو اسے سخت ترین پابندیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ترک میڈیا میں صدر اردغان کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے پابندیاں لگائیں توہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے ایک پر خلوص دوست سے محروم ہو جائے گا۔ترکی میں مقیم امریکی پادری پر الزام ہے کہ اس کے رابطہ ایک ایسے گروپ سے تھے جو 2016 کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث تھا۔پادری انیڈریو برونسن اس الزام سے انکار کرتا ہے۔پاسٹر اینڈیو برونسن کو 21 ماہ کی قید کے بعد اب اپنے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔وہ ترکی میں 20 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے۔الزامات ثابت ہونے پر اسے 35 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔دونوں ملکوں کے سفارتی عہدیدار اس نتازعہ کو حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرخارجہ مائیکل پومپیو نے اپنے ترک ہم منصب مولود جاویش اوغلو سے اس معاملے پر بات کی ہے۔ترک میڈیا ٹی آر ٹی اور دوسرے میڈیا چینلز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان دوستی اب تنازع کی جانب بڑھ رہی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردغان نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے انقرہ حکومت کا عزم متزلزل نہیں ہو گا۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ترکی امریکی پادری کو رہا نہیں کرتا تو اسے سزا دی جائے گی۔ اس بیان پر اردغان نے کہا کہ پابندیوں کی دھمکی سے ترکی کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ نے اپنا موقف نہ بدلا تو وہ ایک پرخلوص اور مضبوط پارٹنر ملک سے محروم ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے امریکی پاسٹر اینڈریو براؤنسن گزشتہ دو برسوں سے ترکی میں قید ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ترکی کے وزیر خارجہ میولت اوغلو نے کل امریکی پادری اینڈریو برونسن کے سلسلہ میں بات چیت کی۔امریکی وزارت خارجہ نے اس بات کی اطلاع دی ہے۔ترکی میں پادری برونسن کو حراست میں لیے جانے کا واقعہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے ایک خاص مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پادری برونسن کی رہائی کے لیے ترکی پر دباؤ بنانا شروع کر دیا ہے. امریکہ نے اس سلسلہ میں ترکی پر پابندی عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ ترکی کی ایک عدالت نے اس ہفتہ پادری برونسن کو گھر میں نظربند کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔قابل غور ہے کہ دہشت گردی اور جاسوسی کے الزام میں پادری اینڈریو برونسن گزشتہ 21 ماہ سے ترکی کی ایک جیل میں بند ہیں۔ پادری برونسن امریکہ میں نارتھ کیرولینا کے رہنے والے ہیں اور 20 سال سے بھی زیادہ وقت تک انہوں نے ترکی میں کام کیا ہے۔مسٹر برونسن نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔
اگر پادری برونسن مجرم پائے جاتے ہیں تو انہیں 35 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں