جمنا کی سطح آب خطرہ کے نشان کو پار کرگئی

ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سشودیا نے آج دریائے جمناکے کناروں پر اُن علاقوں میں جو اس دریا کی سطح آب میں اضافہ کے باعث بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں جاریہ تخلیہ کے کام کا جائزہ لیا۔ ہریانہ میں ہتھنی کنڈ سے جو 5 لاکھ کیوزب کے لگ بھگ پانی چھوڑا گیا ہے وہ بھی آج دہلی پہنچ سکتا ہے۔ دریا کے کناروں کے نزدیک اکشرادھام اور پانڈو نگر کے آس پاس واقع نشیبی علاقہ میں تخلیہ کا کام جاری ہے۔ یہ دریا آج صبح سے خطرہ کے نشان کے اوپر بہہ رہا ہے جس کے باعث متعلقہ ایجنسیوں اور محکمہ جات کو متحرک کیا گیا ہے اور انہیں چیف منسٹر کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ تخلیہ میں سہولت فراہم کریں اور اس خصوص میں مدد کریں۔ ٹیموں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ تیار رہیں اور ہنگامی حالات کی صورت میں برقی ، غذا اور پینے کے پانی کی سربراہی و نیزطبی مدد کی فراہمی عمل میں لائیں۔ کوئی بھی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے لہٰذا کشتیوں کو بھی متعین کردیا گیا ہے جبکہ اُن افراد کو جن کا دریا کے کناروں سے تخلیہ کیا جارہا ہے شامیانوں میں منتقل کیا جارہا ہے اور ان کی رہائش کیلئے دیگر عارضی انتظامات بھی کئے جارہے ہیں۔ شمالی ریاستوں میں شدید ترین بارش کے باعث ہفتہ کے دن اس دریا کی سطح یاب بڑھتی ہوئی دیکھی گئی تھی اور ہریانہ نے ہتھنی کنڈ سے پانی چھوڑا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر چیف منسٹر اروندکیجریوال نے ہفتہ کے دن متعلقہ ایجنسی کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا تھا اور سیلاب جیسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔ دریا کی سطح یاب میں اضافہ کے پیش کے نظر کناروں کے قریب رہنے والے افراد کو چوکس کردیا گیا تھا۔ دریا کے قریب واقع بعض مواضعات کے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا جارہا ہے۔ شمال مشرقی دہلی میں دریا سے متصل واقع سونیا وہار ، گڑہی مندو اور نیو عثمان پور سے عوام کا تخلیہ کردیا گیا ہے اور انہیں قریبی محفوظ مقامات کو منتقل کردیا گیا ہے۔ رات دیر گئے موصولہ اطلاع میں بتایا گیا کہ دہلی کے نشیبی علاقوں سے کوئی 3000 افراد کا عارضی کیمپس کو تخلیہ کردیا گیا اور قدیم جمنا پل پر ٹریفک معطل ہوگئی کیونکہ اس دریا کی سطح آب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ خطرہ کے نشان کو پار کرنے کے بعد گذشتہ 5 سال کی سب سے بڑی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت دہلی نے جمنا کے کناروں پر واقع نشیبی علاقوں میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا ’’آج 5 بجے شام کے لگ بھگ سطح آب 205.5 میٹرس تک پہنچ گئی۔ گذشتہ مرتبہ یہ 2013 کے دوران 205 میٹرس تک پہنچی تھی جبکہ سطح آب نے 207.3 میٹرس کو چھولیا تھا۔ 2003 کے دوران ہریانہ نے ایک ہی دن 8 لاکھ کیوزک کے لگ بھگ پانی چھوڑا تھا۔ اس مرتبہ تاحال ہریانہ سے 6 لاکھ کیوزک کے لگ بھگ پانی چھوڑا گیا ہے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ جمنا کی سطح آب بڑھتے رہنے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے ٹریفک کی آمدورفت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ 1978 کے دوران جب دہلی میں شدید ترین سیلاب آیا تھا دریاکی سطح آب نے 207.49 میٹر کے ریکارڈ کو چھولیا تھا۔ چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کٹہر نے آج ضلع جمنا نگر کی صورتحال کا جائزہ لیا جہاں پر پانی کا بہائو 5 لاکھ کیوزک کو پارکرلینے کے بعد چوکسی کا اعلان کردیا گیا تھا۔ دریائے جمنا دہلی میں داخل ہونے سے قبل اضلاع جمنا نگر ،کرنال اور پانی پت سے گزرتا ہے۔ ہریانہ کے عہدیداروں نے دہلی کو سطح آب میں اضافہ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ منوہر لال نے متاثرہ علاقوں کا جن میں 65 اضلاع بھی شامل ہیں فضائی سروے کیا انہوں نے نے کسانوں کیلئے معاوضہ کا اعلان کیا اور کہا کہ فصلوں کے نقصان کا جائزہ لینے کے لئے سروے کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں