عمران خان کی 14اگست سے قبل حلف برداری

عمران خان پاکستان کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے ملک کے یومِ آزادی 14اگست سے قبل حلف لیں گے۔ اُن کی پارٹی نے یہ اعلان کیا۔ پاکستان تحریک انصاف نئی حکومت تشکیل دینے چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سے بات چیت کررہی ہے۔ وہ قومی اسمبلی میں واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے لیکن اسے اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دینے کی طاقت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی قائد نعیم الحق نے میڈیا کو کل رات بتایاکہ نمبرگیم پورا کرنے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا ہوم ورک کرلیا ہے اور عمران خان 14اگست سے قبل حلف لیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) کے جاری کردہ نتائج کے بموجب پی ٹی آئی کو 116 ، جیل میں بند سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ ۔نوازکو 64 اور سابق صدر آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی کو 43نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی(پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں) 342 رکنی ہے جس میں 272 کا انتخاب راست عمل میں آتا ہے۔ 172 نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ہی حکومت بناسکتی ہے۔ اسی دوران سیاسی سرگرمیاں پورے زور وشور سے جاری ہیں۔ سیاسی جماعتیں کھلی اور درپردہ بات چیت میں مصروف ہیں۔ پاکستان کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز توقع ہے کہ دو دن میں اپنے اجلاس منعقد کریں گی اور پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کو گھیرنے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں گی۔ ڈان نے یہ اطلاع دی۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کل دن بھر ان امکانی امیدواروں کے نام بتاتارہا جنہیں اہم سرکاری عہدے ملیں گے۔ وہ وفاقی کابینہ کے امکانی ارکان کے نام بھی بتاتارہا۔ ایک سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے پی ٹی آئی قائدین کو اضافی نشستیں خالی کرنی ہوں گی۔ صدرنشین پی ٹی آئی عمران خان نے پانچ نشستیں جیتی ہیں اور انہیں چار نشستیں خالی کرنی ہوں گی۔ تکشیلا کے غلام سرور خان نے بھی قومی اسمبلی کی دو نشستیں جیتی ہیں۔ انہوں نے سابق وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کو ہرایا ہے۔ انہیں بھی ایک نشست چھوڑنی ہوگی۔ خیبرپختون خواہ کے چیف منسٹر پرویزخٹک نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی دونوں نشستیں جیتی ہیں۔ پی ٹی آئی نے انہیں دوبارہ چیف منسٹر بنایاتو ایسی صورت میں انہیں قومی اسمبلی کی نشست خالی کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عمران خان کی پارٹی کی نشستیں 109ہوجائیں گی۔ شاید اسی حساب کتاب سے پی ٹی آئی قیادت نے اب طئے کیا ہے کہ چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی تائید حاصل کی جائے کیونکہ وہ پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این سے کوئی اتحاد نہیں کیاجائے گا۔ ڈان نے اطلاع دی ہے کہ سکریٹری جنرل پی ٹی آئی جہانگیر ترین نے آزاد امیدواروں اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے رابطہ قائم کیاہے۔ ایم کیو ایم پی نے 6نشستیں جیتی ہیں۔ پارلیمنٹ کے لئے 13آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این انتخابی نتائج کو مستردکرچکی ہیں لیکن دونوں جماعتوں کے ذرائع نے ڈان کو بتایاکہ وہ قومی اسمبلی میں تقریب حلف برداری کے بائیکاٹ کی متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی اپیل کی تائید نہیں کریں گی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایک قائد نے بتایاکہ ہم نے پارلیمنٹ میں جارحانہ اپوزیشن کا رول ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں