محبوبہ مفتی کے آنسوؤں کا اب کشمیر میں کوئی خریدار نہیں: فاروق عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے الزام لگایا کہ بحیثیت چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے ہر وقت کشمیریوں پر مظالم کو جواز بخشا۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کے نشے میں دْھت مفتی نے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال، ہلاکتوں اور ظلم و جبر کو جواز بخشنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار اتوار کے روز یہاں حلقہ انتخابات خانیار کے دولت آباد ناؤپورہ میں پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ’مگرمچھ کے آنسوؤں کا اب کوئی خریدار نہیں، اقتدار سے بے دخلی کے بعد محبوبہ مفتی کے آنسو کشمیری قوم ہضم نہیں کرسکتی، اگر موصوفہ کو واقعی کشمیریوں سے ہمدردی ہوتی تو یہ آنسو وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہ کر نکلے ہوتے لیکن اْس وقت اقتدار کے نشے میں دْھت پی ڈی پی صدر نے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال، ہلاکتوں اور ظلم و جبر کو جواز بخشنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی‘۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے3سال کے دوران کشمیریوں کو بخوبی معلوم ہو اہے کہ پی ڈی پی کس قدر اقتدار کی خاطر اپنے ضمیر کو بیچ سکتی ہے اور اقتدار میں بنے رہنے کے لئے یہ جماعت کشمیریوں کے مفادات کا کس قدر سودا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ اقتدار میں رہ کر پی ڈی پی والوں نے مظلوم اور محکموں کشمیریوں پر ہوئے جبر و استبداد اور ظلم و ستم کے خلاف اْف تک نہیں کی، کشمیریوں عوام کے خلاف براہ راست جنگ جاری تھی لیکن محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ ایک بار بھی اپنے عوام کے حق میں لب کشائی نہیں کی‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے مل کر بدترین اور عوام کش حکمرانی کا مظاہرہ کیا اور ساڑھے 3سال کے دوران خزانہ عامرہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا گیا۔ اقرباپروری ،کنبہ پروری ، کرپشن اور رشوت خوری میں پی ڈی پی نے ملک بھر میں نام کمایا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت میں ریاست کی تعمیر و ترقی جہاں ماند پڑ گئی تھی وہیں اْن علاقوں کو سرے سے ہی نظرانداز کیا گیا جہاں جہاں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی تھے۔ پی ڈی پی اور بی جے پی نے مل کر ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ریاست کے تینوں خطوں کے عوام کو مذہبی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔

جواب چھوڑیں