ملک کو درپیش تمام برائیوں کی اپوزیشن ذمہ دار:مودی

وزیر اعظم نریندرمودی نے اپوزیشن پارٹیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے اُنہیں گذشتہ 70 سال سے ملک کو درپیش برائیوں پر جوابدہ قراردیا۔ اپوزیشن کی جانب سے صنعتکاروں کو چور اور لٹیرے قراردیئے جانے پر مودی نے بتایاکہ اُنہیں صنعتکاروں کی تائید میں کوئی تذبذب نہیں کیونکہ اُن کے عزائم واضح ہیں۔ اُنہوںنے حکومت اترپردیش پر صنعتکاروں کو اُن کے ترقیاتی پابند عہد ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعظم نے بتایاکہ ہم ایسے نہیں جو صنعتکاروں کی تائید سے خوفزدہ ہیں۔ اُنہوںنے بتایاکہ کسانوں ‘ بینکرس‘ سرکاری ملازمین اور لیبروں کی طرح صنعتکاروں نے بھی ملک کی ترقی میں حصہ لیاہے۔ مودی نے بتایاکہ آپ کسی بھی فرد کی محض تائید سے مورد الزام نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ آپ کے عزائم اچھے اور واضح ہیں۔ اُنہوںنے بتایاکہ بابائے قوم گاندھی جی بہت صاف وشفاف کردار رکھتے تھے تاہم اُنہوںنے کبھی بھی برلا خاندان کاساتھی دینے میں تذبذب کا مظاہرہ نہیں کیا۔مودی نے مزید بتایاکہ عوام کے سامنے ملنا نہیں تاہم پردہ کے پیچھے سب کچھ کرنا ہے‘ وہ(اپوزیشن) ڈرتے رہتے ہیں ۔ ایس پی کے سابق قائد امرسنگھ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ حاضرین کو تمام تفصیلات سے واقف کرواسکتے ہیں۔ مودی نے قہقہہ کی گونج میں یہ بات بتائی۔ اُنہوںنے بتایاکہ کیا ہم صنعتکاروں اور بیوپاریوں کو چور اور لٹیرے قراردیتے ہوئے اُن کی توہین کریں۔ آخر یہ کیا ہے؟ جو لوگ غلط کاری کا ارتکاب کرتے ہیں اُنہیں یا تو ملک چھوڑناپڑے گا یا جیل میں زندگی کاٹنی ہوگی۔ اِس سے پہلے ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ سب کچھ پس پردہ ہورہا تھا۔ اُنہوںنے کسی کا نام لئے بغیر یہ سوال کیا کہ کیا وہاں موجود عوام اِس بات سے واقف نہیں کہ مذکورہ بالا لوگ کس کے جہاز میں سفر کیا کرتے تھے۔ مودی نے بتایاکہ ایک ایسا بھی وقت تھا جبکہ کوئلہ بدنام ہوگیا تھا بظاہر وہ کوئلہ بلاک تخصیص اسکام کا حوالہ دے رہے تھے۔ مودی نے بتایاکہ جو لوگ اُن پر تنقید کیلئے مسائل ڈھونڈتے ہیں اُنہیں اِس بات کا نوٹ لینا چاہئے کہ جس کسی بھی غلطی کا اُنہیں پتہ چلتا ہے وہ 70سال پرانی ہوتی ہے۔ اُنہوںنے بتایاکہ جو کچھ بھی آپ(عوام) کو معلوم ہو گا وہ اُن (اپوزیشن)کی حکمرانی میں 70سال پہلے ہوا ہوگا اور اُن کے 4سالہ دور میں ایسا نہیں ہوا۔ اُنہوںنے اپوزیشن سے کہاکہ میرے کھاتے میں صرف 4سال ہیں اور اُن کے کھاتے میں 70سال ہیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر اُن سیاسی حلیفوں پر بھی تنقید کی جو اُن کے وقتاً فوقتاً ریاستی دورہ کا مضحکہ اڑاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس سے لوک سبھا انتخابات سے قبل اُن (مودی) کی پریشانی کا اظہار ہوتا ہے۔ اُنہوںنے بتایاکہ ریاستی ایم پی کی حیثیت سے وہ دونہیں پانچ اوردس مرتبہ وہاں آئیں گے ۔ اُنہوںنے عوام سے کہاکہ وہ ملک کے ایم پی ہیں اور ریاست کا دورہ کرتے رہیں گے۔ قبل ازیں اپوزیشن سماج وادی پارٹی نے ایک ماہ میں چھ مرتبہ وزیر اعظم کے ریاستی دورہ کا مضحکہ اڑایا تھا۔ مودی کا آج اترپردیش کا اس ماہ میں چھٹواں اور لکھنؤ کا اتنی ہی مدت میں دوسرا دورہ تھا۔ کل وہ شہری تناظر کی تبدیلی پر پروگرام میں شرکت کیلئے یہاں پہنچے تھے جو شہری ترقی پردھان منتری آوس یوجنا (شہری) ‘ اٹل مشن برائے شہری تبدیلی احیائ(اے ایم آر یو ٹی) اور اسمارٹ سٹیز مشن جیسے تین کلیدی سرکاری اقدامات کی تیسری سالگرہ تھی۔

جواب چھوڑیں