مودی راج میں اچھے دن ‘آنے والے نہیں:ششی تھرور

سینئر کانگریس قائد ششی تھرور نے آج کہا کہ کانگریس کسانوں کی حالت زارجیسے حقیقی مسائل اٹھارہی ہے جبکہ بی جے پی مذہبی صف بندی کے ایجنڈہ کو بڑھاوا دینے پرتلی ہے کیونکہ اس کے پاس دکھانے کے لئے کوئی کامیابیاں نہیں ہیں۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ بھگوا جماعت کا اچھے دن کا وعدہ ادھورا ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ ششی تھرور نے پی ٹی آئی سے انٹرویو میں کہاکہ کانگریس‘ حکومت کی ناکامیاں بیان کرے گی وہ ان نام نہاد اسکیموں کو بھی سامنے لائے گی جو کھوکھلے نعرے بن کر رہ گئیں۔ رائے دہندوں سے سادہ سوال ہے کہ آیا آج آپ کی حالت 2014ء سے بہتر ہے؟ ‘ کیا اچھے دن آگئے؟ بیشتر کا جواب یہی ہوگا کہ اچھے دن نہیں آئے۔ اچھے دن 2014ء کے الیکشن سے قبل بی جے پی کا وضع کردہ مقبول عام نعرہ تھا جو پورے ہندوستان میں گونجا تھا۔ نریندرمودی حکومت بھرپور اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آگئی تھی۔ تیرواننتاپورم کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد میں بحث کے دوران راہول گاندھی کی تقریر بتاتی ہے کہ پارٹی ایجنڈہ طئے کررہی ہے ۔ وہ رافیل اسکام اور کسانوں کی حالت زار جیسے مسائل اٹھارہی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا راجیوگاندھی کی امیج ایک شرمانے والے سیاستداں سے حقیقی چیالنجر میں بدل گئی ہے‘ ششی تھرور نے کہا کہ یہ کانگریس صدر کی اپنی کوششیں ہیں۔ راہول گاندھی تیزطرار ہیں‘ سوشیل میڈیا پر ان کا جوش وخروش توانائی اور طنز ومزاح دیکھنے لائق ہے۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ وہ ہندو پاکستان اور ہندو طالبان کے ریمارکس پرمعافی نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہاتھا کہ ہندوستان ہندو پاکستان ‘میں نے کہاتھا کہ بی جے پی پھر برسرِ اقتدارآتی ہے تو اسے ہندو راشٹر کا اپنا پراجکٹ پورا کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنے گی اوریہ ہندو راشٹر پاکستان کا عکس ہوگی کیونکہ پاکستان مذہبی مملکت ہے۔ اس طرح ہمارا ملک ہندو پاکستان بن کر رہ جائے گا۔ ہندوطالبان کے ریمارک کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بات اپنے حلقہ کے دفتر پر حملہ کے بعد کہی تھی۔ سینئر کانگریس قائد نے بی جے پی پرالزام عائد کیاکہ وہ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہی ہے ‘کیونکہ حقیقی مسائل اٹھائے جائیں تو بھگوا جماعت کی ہار ہوگی۔ ششی تھرور نے زوردے کرکہا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے والی راج نیتی ملک کے لئے اچھی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی نے نفرت ،عدم رواداری اور پھوٹ کا جو ماحول تیارکیا ہے اس سے ہندوستان کو صرف نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء کے الیکشن سے قبل کانگریس ، مہنگائی، پٹرول اور پکوان گیس کے بڑھتے دام اور بڑھتی بے روزگاری جیسے حقیقی مسائل اٹھائے گی۔ بی جے پی کے کانگریس پر اقلیتوں کے خوشامد کے الزام کے تعلق سے ششی تھرور نے سوال کیاکہ اگر اقلیتوں کی عرصہ سے خوشامد ہوتی رہی تو پھر مسلمان غریب کیوں ہیں‘ کم پڑھے لکھے کیوں ہیں اور دیگر برادریوں کے مقابلہ زیادہ بے روزگار کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کمزورترین اور سماج کے درکنار طبقات کی مدد کرناچاہتی ہے اور ان طبقات میں اقلیتیں ،دلت، آدی واسی ‘ خواتین اور جسمانی معذورین شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں