امریکہ اور طالبان کے مابین خفیہ ملاقات ‘نتیجہ خیز

امریکہ آج کل افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ واشنگٹن حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کے امکانات کی تلاش میں تھی اور اس سلسلے میں اوّلین پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکومت کے نمائندوں اور افغان طالبان کے مابین ہونے والی خفیہ ملاقات سے ’مثبت‘ اشارے ملے ہیں۔ اس سے قبل وال اسٹریٹ جنرل اور نیو یارک ٹائمز نے طالبان ذرائع کے توسط سے رپورٹ کی تھی کہ ایک ہفتہ قبل طالبان کے متعدد نمائندے جنوبی ایشیا کے لیے خصوصی امریکی مندوب ایلس ویلس اور دیگر امریکی سفارت کاروں سے خلیجی ریاست قطر میں ملے تھے۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے اس خبر کی تردید نہیں کی ہے۔اس خفیہ ملاقات میں شریک افغان طالبان کے ایک نمائندے نے روئٹرز کو بتایا کہ دوحہ کے ایک ہوٹل میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران بات چیت انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئی، ’’اسے امن مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اسے بامقصد بات چیتکا آغاز کہہ سکتے ہیں۔‘‘اس بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خاطر فریقین نے جلد ہی دوبارہ ملنے پر اتفاق کیا ہے۔ قطر کے دارالحکومت میں طالبان کا نیم سرکاری دفتر بھی قائم ہے۔طالبان کا اصرار تھا کہ کابل حکومت کا کوئی بھی اہلکار اس مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گا۔ ابھی دو ہفتے قبل ہی نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلی سفارت کاروں کو طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کرنے کے راستے تلاش کرنے کا کہا تھا۔رائٹر نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ مثبت رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ میں شامل طالبان کے ایک نمائندے نے بتایا کہ یہ ملاقات دوحہ کے ایک ہوٹل میں ’’دوستانہ فضا‘‘ میں ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں عارضی جنگ بندی پر بات چیت کی گئی۔ دونوں فریقین نے جلد دوبارہ ملنے اور افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق بھی کیا۔

جواب چھوڑیں