بار ہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی عصمت ریزی پر خاطیوں کو سزائے موت :رجیجو

لوک سبھا نے آج وہ اہم بل منظور کرلیا جس کے ذریعہ اُن افراد کو سزائے موت دینے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے جو 12سال سے کم عمر لڑکیوں کی عصمت ریزی کے خاطی قرارپاتے ہیں۔ مذکورہ بل میں ایسے جنسی جرائم کے خلاف قانون مزید سخت کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ یہ بل‘ فوجداری قانون( ترمیمی) آرڈیننس ( جا ری کردہ 21اپریل2018) کی جگہ لے گا۔ جموں وکشمیر کے ضلع کھٹوعہ میں ایک کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل ونیز یوپی کے انائو میں ایک خاتون کی عصمت ریزی کے واقعہ پر ملک بھر میں زبردست احتجاج کے بعد مذکورہ بل مرتب کیا گیا ہے۔ مذکورہ فوجداری قانون( ترمیمی ) بل 2018کی تائید اگرچہ کہ بیشتر ارکان نے اپنی سیاسی وابستگیوں سے بلند ہوتے ہوئے کی ہے اور یہ بل ‘ ندائی ووٹ کے ذریعہ منظور کیا گیا۔تاہم بعض اپوزیشن ارکان نے قانون وضع کرنے کیلئے آرڈیننس کا راستہ اختیار کرنے کے ‘ حکومت کے طریقہ پر اعتراض کیا ہے۔ مذکورہ آرڈیننس کو نامنظور کرتے ہوئے پیش کردہ ایک قانونی قرارداد اور اپوزیشن ارکان کی پیش کردہ کئی ترمیمات کو بھی ندائی ووٹ کے ذریعہ مسترد کردیا گیا۔ ایوان میں زائد از دوگھنٹہ طویل مباحث کا جواب دیتے ہوئے منسٹر آف اسٹیٹ برائے امور داخلہ کرن رجیجو نے کہاکہ مذکورہ سخت قانون کا مقصد‘ کمسن لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ موجودہ قانون تعزیرات ہند کے تحت اُن خاطیوں کو سزاء دینے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے جو کسی خاتون کی عصمت ریزی کے مرتکب قرارپاتے ہیں لیکن 16سال یا12 سال سے کم عمر لڑکیوں کی عصمت ریزی یا اجتماعی عصمت ریزی پر سزاء کی کوئی دفعہ نہیں تھی اب حکومت نے جو دفعات تجویز کی ہیں وہ ’’ نہایت اہم دفعات ہیں‘‘۔ رجیجو نے کہاکہ 12سال سے کم عمر لڑکیوں کی عصمت ریزی اور اجتماعی عصمت ریزی کے حالیہ واقعات نے ساری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسے جرائم کو مزید سخت سزائوں کی حامل قانونی دفعات کے تحت موثر طورپر روکنے کی ضرورت ہے۔ بحث کے دوران ڈپٹی اسپیکر ایم تمبی دورائے نے جو ایوان کی صدارت کررہے تھے‘ تجویز پیش کی کہ مذکورہ قانون سازی کی دفعات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جانی چاہئے۔ اِس طرح جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ رجیجو نے بتایاکہ کسی خاتون کی عصمت ریزی کے مقدمہ میں خاطی کو دی جانے والی اقل ترین سزاء کو 7سال بامشقت قید سے بڑھا کر 10سال قید بامشقت کردیا گیا ہے جس میں عمر قید تک کا اضافہ ممکن ہے۔ 16سال سے کم عمر کسی لڑکی کی عصمت ریزی کی صورت میں خاطی کو دی جانے والی اقل ترین سزاء کو 10سال سے بڑھاکر20سال کردیا گیا ہے اور اِس سزاء میں ماباقی عمر کی قید تک توسیع ممکن ہے۔ 16سال سے کم عمر کسی لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کے خاطی کو سزاء ماباقی زندگی تک جیل ہوگی۔

جواب چھوڑیں