بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے 98 فیصد کیسس کا پتہ ہی نہیں چلتا: سپریم کورٹ جج

 بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے لگ بھگ 97-98 فیصد کیسس کی اطلاع متعلقہ حکام کو نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کے جج دیپک گپتا نے یہاں ایک سمپوزیم میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کیسس کی رپورٹنگ اس لئے نہیں ہوتی کہ بچوں کے ساتھ ظلم وزیادتی یا غلط برتاؤ ان کے ارکان خاندان ‘ دوست احباب یا رشتہ دار ہی کرتے ہیں۔ ریسرچ اور دیگر ذرائع کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ زیادہ تر معاملات میں یہ ظالم بچوں کے ارکان خاندان‘ رشتہ دار ‘ دوست احباب یا پڑوسی ہوتے ہیں۔ حکام کو اس مسئلہ کا سنجیدگی سے نوٹ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کیسس سے کمپیوٹرائزیشن اور ای کورٹ سسٹم کی مدد سے نمٹا جانا چاہئے۔ بچوں کے چھوٹے موٹے جرائم سے بچوں کی عدالت کے بجائے ماں باپ یا سرپرستوں کی مدد سے نمٹنا چاہئے۔ تریپورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اجئے رستوگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 121 کروڑ کی آبادی میں 39 فیصد بچے ہیں یا 39 فیصد آبادی کی عمر 16 برس سے کم ہے۔ یہ ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ بچوں کو پوری طرح موافق اور دوستانہ ماحول فراہم کرنا چاہئے۔

جواب چھوڑیں