تلنگانہ کیساتھ ناانصافیوں پر تحریک عدم اعتماد کیوںپیش نہیں کی گئی

کانگریس پارٹی نے مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے ساتھ جاری ناانصافیوں پر حکومت تلنگانہ کی خاموشی کو معنی خیزقراردیا۔آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی این اتم کمارریڈی نے چیف منسٹر کے چندرشیکھررائو سے جاننا چاہا کہ ان ناانصافیوںکے خلاف مرکزی حکومت کے خلاف کیوں تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی گئی ۔ اتم کمارریڈی نے کہاکہ کے چندر شیکھر رائو وزیر اعظم نریندر مودی کے کٹرحامی ہیں اس لئے ریاست کے ساتھ ہورہی مسلسل ناانصافیوں کے باوجود خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ صدرٹی پی سی سی نے کہاکہ جی ایس ٹی قانون کی سب سے پہلے تائید کرنے والے کے چندرشیکھررائو ہی تھے ۔ بڑے نوٹوں کے چلن کوختم کرنے کے فیصلہ کی بھی کے سی آر نے بھی سب سے پہلے تائید کی تھی ۔ نائب صدرکے عہدے کے لئے منعقدہ انتخابات میں ٹی آرایس اراکین مقننہ نے بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ اتم کمارریڈی نے مزید کہاکہ ریاست کے مفادات کونظراندازکرتے ہوئے بی جے پی سے قربت کوبڑھایاجاتارہا۔ جب بھی مرکزی حکومت سے کچھ حاصل کرنے کا موقع ہاتھ آیا چیف منسٹرکے چندرشیکھررائو نے مطالبات کرنے کے بجائے محبت کا مطالبہ کیاجس کے نتیجہ میں نہ خداملانہ وصال صنم کے مصداق تلنگانہ کوکچھ حاصل نہیںہوا۔ اب اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لئے کانگریس پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ صدرٹی پی سی سی نے کہاکہ کانگریس کی بدولت ہی ریاست تلنگانہ کاخواب شرمندہ تعبیرہوسکا۔ حیدرآباد کی جملہ آمدنی کاتلنگانہ کوحقدار ٹہرایاگیا ۔ آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2014 میں تلنگانہ اور آندھراپردیش سے جتنے وعدے کئے گئے تھے وہ سب اس وقت مرکز میں برسر حکومت کانگریس نے ہی کئے تھے ۔ تاہم موجودہ بی جے پی حکومت ان وعدوں کو فراموش کرچکی ہے اورٹی آرایس اپنی معنی خیز خاموشی سے بی جے پی کے رویہ کی تائید کررہی ہے ۔

جواب چھوڑیں