رافیل معاملت پر وزیر اعظم نے ’ڈرامہ بازی‘ کی :راج ببر

صنعت کاروں کے ساتھ بھاگیداری پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید پر جوابی تنقید کرتے ہوئے یوپی کانگریس کے صدر راج ببر نے کہا کہ وزیر اعظم بعض صنعت کاروں کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں عوام کو قائل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور انہوں نے یہ ساری ’’ڈرامہ بازی‘‘ محض اس لیے کی کہ تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ رافیل معاملت میں انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ۔ راج ببر نے کہا کہ لکھنؤ میں اتوار کے روز وزیر اعظم کی تقریر محض ڈرامہ بازی تھی ، تاکہ اپنے آپ کو بے قصور ظاہر کرسکیں۔ انہوں نے اپنی معصومیت ثابت کرنے ایک برے شخص (امر سنگھ ) کی طرف اشارہ بھی کیا لیکن یہ کافی نہیں ہوگا کیوںکہ ملک کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ رافیل معاملت این ڈی اے حکومت کے لیے اتنی اہم کیوں ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پارٹی انہیں اجازت دے تو وہ وزیر اعظم سے بہتر ڈرامہ بازی کرسکتے ہیں ۔ راج ببر نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی صدر راہول گاندھی میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں کھلے عام الزامات عائد کرسکتے ہیں لیکن وزیر اعظم میں یہ حوصلہ نہیں ہے اور وہ کسی کا نام لینے سے ڈرتے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نے کل الزام عائد کیا تھا کہ ایک اپوزیشن قائد ، صنعت کاروں کے ساتھ بند کمرہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور تمامتر فوائد حاصل کرتے رہے ہیں۔ راج ببر نے کہا کہ راہول گاندھی نے کبھی کسی صنعت کار سے ملاقات نہیں کی اور اسی لیے ان کی کسی صنعت کار کے ساتھ تصویر موجود نہیں ہے۔ صنعت کاروں کے شراکت دار (بھاگیدار ) لوگوں کی ہی ان کے ساتھ تصاویر ہوتی ہیں۔ رافیل معاملت پر انہوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ وہ یہ وجہ بتانے سے کیوں خوفزدہ ہیں کہ رافیل طیاروں کی تیاری کا کنٹراکٹ ایک ایسی کمپنی کے حوالے کیوں کیا گیا جو کنٹراکٹ دینے سے صرف 15 دن پہلے رجسٹر کرائی گئی اور اسے ایک سائیکل بنانے کا تک تجربہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس کمپنی کنٹراکٹ دیا گیا ہے وہ صرف کھمبے نصب کررہی تھی لیکن اچانک این ڈی اے حکومت نے یہ محسوس کیا کہ وہ طیارہ سازی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری ملکیت ایچ اے ایل کے بجائے ایک خانگی کمپنی کو یہ کنٹراکٹ دیا گیا ۔ راج ببر نے پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کے ’’پول کھول‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ بھی جواب دینا چاہیے کہ طیارہ جو یوپی اے حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدہ میں 550 کروڑ روپئے فی طیارہ کی شرح سے حاصل کیا جانے والا تھا ، صرف 4 سال بعد اس کی قیمت 1650 کروڑ روپئے فی طیارہ کیوں ہوگئی ؟ کیا یہ بھاگیداری نہیں ہے۔ مودی نے اپنے چار سالہ دورِ حکمرانی کے بارے میں تمام اچھی باتیں کہیں تاہم کیا وہ صنعتی ترقی کے بارے میں جواب دے سکتے ہیں جو یوپی اے کے دورِ حکومت میں 6 فیصد تھی تاہم 2018ء میں 3.3 فیصد تک گھٹ گئی ہے ۔ یوپی کانگریس کے صدر نے ریاست میں بارش اور دیگر آفاتِ سماوی کے سبب 70 افراد کی موت کا حوالہ تک نہ دینے پر بھی وزیر اعظم کو نشانۂ تنقید بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اتوار کے روز ریاست میں صنعت کاروں کی نمائش سے ہی دلچسپی رکھتے تھے انہیں عوام کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہر روز کم از کم32کسان خودکشی کررہے ہیں لیکن حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ وہ صرف صنعت کاروں کے ساتھ لطف اندوز ہورہی ہے۔

جواب چھوڑیں