سرنظامت جنگ میموریل لائبریری کی عظمت رفتہ کی بحالی کافیصلہ

تلنگانہ مائنارٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل سوسائٹی نے حیدرآبادکن ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نظامت جنگ بہادر کے کتب خانہ کے سرنظامت جنگ میموریل لائبریری کی عظمت رفتہ کی بحالی کافیصلہ کیا ہے ۔اس کتب خانہ کو پیشرو حکومتوں کی جانب سے مسلسل نظر اندا زکردیا گیا تھا ۔نظامت جنگ بہادر نے 1910 میں اس کتب خانہ کا قیام عمل میں لایا تھا ۔نظامت جنگ بہادر نے کیمبرج کی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ ناندیڑ کے پربھنی کورٹ کے جج کے علاوہ حیدرآباد دکن کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی تھے ۔انہوں نے کئی کتابوں کو جمع کیا تھا ۔لندن میں ان کی کئی نظمیں شائع ہوئی تھیں ۔احمد علی سابق کیوریٹر سالارجنگ میوزیم نے کہا کہ وہ اس کتب خانہ کو بہتر بنانے کے بعد اپنی خدمات پیش کریں گے ۔1972میں اُس وقت کے صدر جمہوریہ ذاکر حسین نے اس کتب خانہ کا افتتاح کیا تھا جس کے بعد نظامت جنگ کے شخصی کلکشن کو عوام الناس کے لئے دستیاب رکھا گیا تھا ۔کتب خانہ کی اس عمارت میں 8000تا10,000کتابیں ہیں جو تقریباً150سال یا پھر 175سال قدیم ہیں۔اس کتب خانہ میں 53الماریاں ہیں جن میں 50میں انگریزی کتابیں ہیں۔ساتھ ہی اردو ، عربی اورفارسی کی کتابوں کا بھی ذخیرہ موجود ہے ۔سوسائٹی نے ان کتابوں کا کیٹلاگ بنانے اور قدیم مخطوطات کو الگ کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ان کتابوں کو ڈیجیٹائز کیاجائے گااور ان کو محفوظ رکھا جائے گا۔

جواب چھوڑیں