عمران خان کی 11 اگست کو حلف برداری

عمران خان نے آج کہا کہ وہ 11 اگست کو وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف لیں گے حالانکہ ان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی حکومت سازی کے لئے درکار نمبر جُٹانے میں مصروف ہے۔ 65 سالہ عمران خان کی پی ٹی آئی نیشنل اسمبلی(پاکستانی پارلیمنٹ) میں واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے لیکن وہ اس موقف میں نہیں ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دے۔ عمران کی پارٹی نے کل اعلان کیا تھا کہ وہ چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ ریڈیو پاکستان کے بموجب عمران نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ کی 11 تاریخ کو وزیراعظم کی حیثیت سے حلف لیں گے۔ انہوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ کی اسمبلی کے پی ٹی آئی ارکان سے خطاب میں کہا کہ میں نے چیف منسٹر خیبر پختونخواہ کا بھی فیصلہ کردیا ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں نام کا اعلان ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں میں نے جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ عوام کے بہترین مفاد میں کیا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کو 2 تہائی اکثریت ملی ہے۔ اس نے 99 رکنی صوبائی اسمبلی میں 65 نشستیں حاصل کی ہیں۔ عمران نے کہا کہ اندرون سندھ سے غربت کا خاتمہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ ہفتہ کے دن پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق نے اخباری نمائندوںسے کہا تھا کہ پارٹی سربراہ 14 اگست سے قبل حلف لیں گے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ صدر پاکستان ‘ ملک کے یوم آزادی سے قبل پارلیمانی اجلاس طلب کریں گے اور عمران خان وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ نتائج کے بموجب پی ٹی آئی نے 116 نشستیں جیتی ہیں جو سادہ اکثریت سے 22 کم ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز 64 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی 43 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ پاکستانی پارلیمنٹ 342 رکنی ہے جس میں 272 کا انتخاب راست عمل میں آتا ہے۔ کسی بھی پارٹی کو حکومت سازی کے لئے 172 ارکان کی تائید جٹانی پڑتی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت ‘ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ‘ گرانڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے) ‘ پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل کیو) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے علاوہ آزاد ارکان سے ربط پیدا کررہی ہے۔ اسی دوران پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین کی کل پہلی راست ملاقات ہوئی جس میں طے پایا کہ پی ٹی آئی حکومت کو گھیرنے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے مشاہد حسین سید سے اس ملاقات کے نتیجہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بے حد اچھی میٹنگ تھی۔ میٹنگ میں پی پی پی کی طرف سے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ‘ شیری رحمن‘ قمر زماں کائرہ اور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی جبکہ پی ایم ایل این کی نمائندگی مشاہد حسین سید ‘ ایاز صادق ‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سردار مہتاب احمد خان نے کی۔ بعدازاں پی پی پی قائدین نے جمعیت علمائے اسلام ۔ فضل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی بات چیت کی جو متحدہ مجلس عمل کے صدر ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو ترغیب دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ نہ کریں۔ متحدہ مجلس عمل نے 12 نشستیں جیتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ نواز اور متحدہ مجلس عمل کی نشستیں جوڑلی جائیں تو 117 ہوجاتی ہیں یعنی عمران خان کی پارٹی سے 2 نشستیں زائد۔

جواب چھوڑیں