مشرقی وسطی امن سمجھوتہ پر سعودی شاہ سلمان کا عرب حلیفوں کو دوبارہ تیقن

سعودی عرب نے اپنے عر ب حلیفوں کو اس بات کا دوبارہ تیقن دیاہے کہ وہ کسی ایسے مشرق وسطی امن منصوبہ کی تائید نہیں کرے گا جس کے ذریعہ یروشلم کے موقف یا پناہ گزینوں کے حق واپسی پر توجہ نہ کی جائے ۔ سعودی عرب کے اس اقدام سے ان اندیشوں کے ازالہ ہواہے کہ مملکت ایک نئے امریکی سمجھوتہ کی تائید کرسکتی ہے جو اہم مسائل پر اسرائیل کے ساتھ صف آرا کرتاہے ۔ شاہ سلمان کی جانب سے فلسطین کے صدر محمود عباس اور ان کے عوامی دفاع کے دیرینہ عرب پوزیشن وعرب موقف کی حالیہ مہینوں کے دوران خانگی طور پر ضمانت کی فراہمی سے ان تاثرات کو دور کرنے میں مدد ملی ہے کہ سعودی عرب کا موقف وہاں کے طاقتور نوجوان فرزند ولیعہد محمد بن سلمان کے تحت تبدیل ہورہاہے ۔ اس کے نتیجہ میں یہ سوال پیداہواہے کہ آیا اسلام کا بنیادی مقام اور مقدس ترین عبادتگاہوں کامرکز سعودی عرب اسرائیل ۔فلسطین تنازعہ کے خاتمہ کو ترقی دینے عربوں کی تائید حاصل کرسکتاہے اور باہمی دشمن ایران کے خلاف صف بندی پر غور کررہاہے ۔ سعودی عرب میں بادشاہ ہی اس وقت اس مسئلہ پر کوئی فیصلہ کرسکتاہے اور ولیعہد نہیں ۔ اس بات کااظہار ریاض میں سینئر عرب سفارتکار نے کیا۔ امریکہ کی یہ غلطی رہی ہے کہ اس نے یہ سمجھا تھا کہ ایک ملک دیگر ممالک پر سمجھوتہ کے لیے دباؤ ڈال سکتاہے لیکن یہ بات دبا ؤ سے تعلق نہیں رکھتی ہے کوئی بھی عرب قائد یا یروشلم یا فلسطین کو تسلیم نہیں کرسکتاہے ۔

جواب چھوڑیں