پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں اتحاد

کرکٹر سے سیاستداں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے لیے آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے ‘کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) او رپاکستان پیپلز پارٹی نے طاقتور اپوزیشن کا رول ادا کرنے ہاتھ ملالئے ہیں ۔ آج ڈان کی ایک رپورٹ میں بتایاگیا کہ یہ فیصلہ پی ایم ایل ( ن ) اور پی پی پی کے قائدین کے درمیان منعقدہ میٹنگ کے درمیان کیاگیا ۔ عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی نے 25جولائی کے عام اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے منظر عام پر آئی ہے ۔ پی ٹی آئی کو 115 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ سادہ اکثریت کے لیے صرف22 نشستیں درکار ہیں ۔ دوسری طرف پی ایم ایل ( ن ) نے 64 اور پی پی پی 43 نشستیں حاصل کی ہے ۔ ان دونوں پارٹیوں کی میٹنگ اتوار کو منعقد ہوئی جو 25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد پہلی راست میٹنگ رہی ہے ۔ پی ایم ایل این کے مشاہد حسین سید نے یہ بات بتائی۔ تاہم پی ایم ایل ( ن ) قائد نے بتایا کہ 25 جولائی کے انتخابات کے سلسلہ میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق رائے رہاہے کہ انتخابات کو ہائی جیک کیاگیا ۔انہوں نے بتایا کہ فریقین کایہ تاثر رہاہے کہ انہیں انتخابی نتاء کو یکسر مسترد کرتے ہوئے باہم تال میل پر مبنی مشترکہ اپوزیشن حکمت عملی اختیار کرنی چاہئپے تاکہ عمران خان کی زیر قیادت پی ٹی آئی حکومت کو دشواری کا سامناہوسکے اور وہ پارٹیاں پارلیمنٹ میں ہی رہیں ۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے بتایا کہ تاحال انہوں نے کلیدی پارلیمانی اسپیکر کے عہدہ اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدہ کے آنے والے انتخابات کی کسی بھی حکمت عملی پر تبادلہ خیال نہیں کیاہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ اس قسم کا باریک بینی کے ساتھ طریقہ کار پر بعدازاں تبادلہ خیال کیاجائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ تین پارٹیوں کے قائدین کی مشترکہ میٹنگ کا بھی انعقاد آج متوقع ہے ۔ علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف پارٹی (پی ٹی آئی) نے دعوی کیا ہے کہ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے حس قدر ارکان کی ضرورت ہے وہ پیر کی رات تک پورے کر لیے جائیں گے۔جیو ٹی وی نے پی ٹی آئی کے ترجمان فؤا د چودھری کے حوالے سے بتایا کہ ان کی پارٹی کو چار دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ترجمان نے کہا کہ ان کی حمایت سے پنجاب صوبائی اسمبلی میں ان کے پاس ارکان کی تعداد 140 ہو جائے گی۔

جواب چھوڑیں