اور جب مودی مسکراتے رہے اور سشما سوراج بولتی رہیں

 آسام کے این آر سی مسئلہ پر سرکاری بنچ اور اپوزیشن کے زبردست سیاسی ٹکراؤ کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے چہارشنبہ کے دن لوک سبھا اجلاس میں شرکت کی لیکن اس وقت خاموش رہے جب ان سے صدر چین شی جنپنگ سے اولین غیررسمی چوٹی ملاقات کے تعلق سے بار بارپوچھا جارہا تھا۔ ترنمول کانگریس رکن سوگاتا بوس اور کانگریس ارکان ملیکارجن کھڑگے‘ کے سی وینوگوپال اور جیوترآدتیہ سندھیا زور دیتے رہے کہ وزیراعظم کو جواب دینا ہوگا کیونکہ وزیر خارجہ اُس وقت وہاں (چین میں) موجود نہیں تھیں۔ مودی نے خاموشی اختیار کی اور کبھی کبھی مسکراتے رہے۔ سشما سوراج ہی بولتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ووہان چوٹی ملاقات کے تعلق سے تمام سوالات کے جواب دے سکتی ہیں کیونکہ وہ چین گئی تھیں اور انہوں نے پہلی غیررسمی چوٹی ملاقات کا میدان ہموار کرنے اپنے چینی ہم منصب سے بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ووہان میں موجود تھی یا نہیں اس کے قطع نظر وہاں کیا ہورہا تھا مجھے اس کی پوری جانکاری تھی۔ وزیراعظم صبر سے بیٹھے رہے‘ کبھی کبھی مسکراتے رہے۔ ایک بار انہیں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے بات کرتے دیکھا گیا جو اُن کے قریب بیٹھے تھے۔ ترنمول رکن بوس نے کہا کہ وہ خاص طورپر ڈوکلم کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ چینی فوج مغربی بنگال کی سلیگڑی راہداری کے کافی قریب آگئی ہے۔ اس پر سشما سوراج نے کہاکہ وہا ںتِل بھر پریورتن نہیں ہوا۔ میں ایوان میں پوری ذمہ داری کے ساتھ بیان دے رہی ہوں کہ ڈوکلم مسئلہ سفارتی بالغ نظری سے حل ہوچکا ہے۔

جواب چھوڑیں