این آر سی مسئلہ ، راجیہ سبھا میں دوسرے دن بھی ہنگامہ

آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی ) پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ کے بیان پر راجیہ سبھا میں آج مسلسل دوسرے دن زبردست شور شرابہ ہوا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔ دوسری مرتبہ یہ دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔چیئرمین ایم وینکیا نائیڈونے صبح میں ضروری دستاویزات ٹیبل پر رکھوانے کے بعد کہا کہ کل ایوان میں این آر سی پر بحث کے دوران کچھ ناخوشگوار واقعات ہوئے اور چیئر کے حقوق پر سوال اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی رکن یا کسی پارٹی کا نام نہیں لینا چاہتے لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی چلانا اور اس کو ملتوی کرنا چیئرمین کا حق ہے۔اس دوران ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے سسٹم کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کل کی بحث میں ایک رکن نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے بعد تمام وزرائے اعظم کی توہین کی ہے اور انہیں ’بزدل ‘بتایا ہے۔ اس لئے اس رکن کو ایوان میں معافی مانگنی چاہئے۔اس پر وینکیا نائیڈونے کہا کہ وہ ایوان کی کل کی کارروائی کو دیکھیں گے اور مناسب اقدامات کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایوان سے باہر کے واقعات کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔چیئرمین کے بیان کے بعد بھی آنند شرما نہیں بیٹھے اور مسلسل بولتے رہے. کانگریس کے دوسرے رکن بھی ان کی حمایت میں کھڑے ہو کر شور شرابہ کرنے لگے۔ اس دوران ترنمول کانگریس کے ڈیریک اوبرائن بھی بولنے کے لئے کھڑے ہو گئے. اس پر چیئرمین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ ایک ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ ایسے میں ایوان چلانا ممکن نہیں ہے۔ایوان سب کے تعاون سے چل سکتا ہے۔ اگر رکن ایوان نہیں چلانا چاہتے تو وہ کارروائی ملتوی کر دیں گے۔ نائیڈونے شرما کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی تو وہ بیٹھ گئے۔اس کے بعد نائیڈونے کہا کہ کل این آرسی پر امیت شاہ کا بیان مکمل نہیں ہو پایا تھا، پہلے وہ پورا ہوگا اور اس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اس معاملے پر بیان دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے امیت شاہ کوبولنے کی ہدایت دی تو کانگریس اور ترنمول کانگریس کے رکن اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور زور زور سے بولنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سنگھ کے بیان کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس میں امیت شاہ کا بیان شامل نہیں تھا۔چیئرمین نے ارکان سے خاموش رہنے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایوان میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد سے بھی اراکین کو پرسکون رہنے کی درخواست کی۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے کارروائی 12 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی۔مابعد لنچ اجلاس میں بھی ہنگامہ جاری رہنے پر صدرنشین نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی

جواب چھوڑیں