ملاقات کیلئے ٹرمپ کی پیشکش ایران نے مسترد کردی:جواد ظریف

 ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کو ایک ٹویٹ کرکے کہا کہ بین الاقوامی جوہری معاہدہ سے الگ ہو کر امریکہ نے ہی بات چیت ختم کی ہے جس کے لئے اس کوخود کو قصوروار ٹھہرایاجانا چاہئے۔مسٹر ظریف نے ٹویٹ کیا، “بین الاقوامی جوہری معاہدے سے الگ ہو کر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ختم کرنے کے لئے امریکہ صرف خود کو ہی مجرم ٹھہرا سکتا ہے‘‘اس سے پہلے پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بغیر کسی شرط پر ایران کے صدر حسن روحانی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ سے امریکہ کے الگ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بات چیت کرنے کے لئے وہ بغیر کسی شرط کے ایران کے رہنما سے ملنے کے لئے تیار ہیں۔وزیر خارجہ جواد ظریف سمیت کئی ایرانی رہنماؤں نے امریکہ کی پیشکش کو مسترد کیا ہے ۔ایران نے امریکہ سے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں اور عوامی توجہ حاصل کرنے کا حربہ نہیں چلے گا۔یہ بات ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے منگل کی رات ایک ٹویٹ میں کہی جو دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پیشکش کا جواب ہے جو انھوں نے میڈیا کے ذریعے ایرانی حکام کو کی تھی۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں سے ‘بغیر شرائط’ کے ملاقات کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ملاقات ‘جب وہ چاہیں ہو سکتی ہے۔’صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے بیان کے بعد ایرانی صدر کے مشیر حامد ابو طالبی نے ٹویٹ کے ذریعہ جواب میں کہا کہ ‘جوہری معاہدے میں واپسی’ اور ‘ایرانی حق خود ارادیت’ کو تسلیم کرنے کے بعد ہی ملاقات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔جواد ظریف نے لکھا کہ ’ایران اور امریکہ نے دو سال تک یورپی یونین، روس اور چین کے ساتھ بات چیت کی تھی ،ہم نے ایک غیر معمولی کثیر الجہتی معاہدہ کیا۔جوہری معاہدہ۔ یہ کام کر رہا ہے۔ امریکہ اس سے نکلنے کے لیے اور میز سے ہٹنے کے لیے صرف خود کو الزام دے سکتا ہے۔‘ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ایرانی رہنماؤں کے ساتھ کسی بھی وقت بات کے لیے تیار ہیں۔ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ ہم سے بہت جلد بات چیت کریں گے۔‘امریکہ اس معاہدہ سے نکل گیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ چھ اگست سے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا رہا ہے لیکن بہت سے ایرانی رہنما صدر ٹرمپ کی نئی پیشکش سے متاثر نہیں ہوئے۔ایران کے صدر کے نائب نے علی مطاہری سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد امریکہ سے مذاکرات ہزیمت ہوں گے۔صدر روحانی کے مشیر حامد ابو طالبی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ مذاکرات کا راستہ ’معاہدے کی جانب واپسی اور ایرانی قومی کے حقوق کی تکریم کرنے سے ہموار ہو گا۔ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟ایرانی سٹریٹیجک کونسل برائے خارجہ امور کے سربراہ کمال خاراضی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ برے تجربہ کی وجہ سے ٹرمپ کی پیشکش کی کوئی وقعت نہیں ہے اور امریکہ نے اپنی سرکاری طور پر کی جانے والی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔واضح رہے کہ مئی میں امریکہ سابق صدر بارک اوباما کے دور میں کیے گئے ایرانی جوہری معاہدہ سے باہر نکل گیا تھا جس کے سبب ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔

جواب چھوڑیں