جموں وکشمیر میں بدامنی کے دوران ‘انٹرنیٹ بندکردیا جائے گا: بی ایس این ایل

سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی اور خراب صورتحال کے دوران انٹرنیٹ خدمات کو بند یا اس کی رفتار کم کردی جائے گی۔ بی ایس این ایل جموں وکشمیر سرکل نے جمعرات کی صبح اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا ‘بدامنی کے دوران انٹرنیٹ بند یا اس کی رفتار سست ہوسکتی ہے ۔ بی ایس این ایل فیملی کا حصہ رہنے کے لئے ہم آپ کے شکر گذار ہیں’۔ سرکاری مواصلاتی کمپنی کی طرف سے یہ ٹویٹ جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے پر سپریم کورٹ میں سماعت سے تین روز قبل سامنے آیا ہے ۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کی سماعت کے لئے 6 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ تاہم وادی کشمیر میں سماعت سے قبل ہی تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دفعہ 35 اے کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ جبکہ وادی کی تقریباً تمام کاروباری و دیگر انجمنوں نے مجوزہ ایجی ٹیشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بھی دفعہ 35 اے کی منسوخی کی کسی بھی کوشش کے خلاف ‘اعلان جنگ’ کردیا ہے ۔ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے ۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35 اے کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے ۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے ‘۔ قابل ذکر ہے کہ وادی میں 8 جولائی 2016 کو حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد انٹرنیٹ خدمات کم از کم چار ماہ تک معطل رکھی گئی تھیں۔ وادی میں انٹرنیٹ خدمات منقطع کرنا حکومت کا ایک معمول بن چکا ہے ۔ وادی میں سیکورٹی اداروں کا ماننا رہا ہے کہ واد ی میں پاکستان نوجوانوں کو احتجاج پر اکسانے کے لئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کررہا ہے۔

جواب چھوڑیں