افغانستان کی شیعہ مسجد پر خودکش حملہ‘ 25ہلاک

مشرقی افغانستان میں آج نماز جمعہ کے دوران ایک خودکش بمبار نے ایک شیعہ مسجد کو نشانہ بنایا۔ 25 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔ کسی نے بھی حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ کم ازکم 2 آدمی صوبہ پکتیہ کے شہر گردیز کی مسجد میں داخل ہوئے تھے جہاں لگ بھگ 60 افراد نماز ادا کررہے تھے۔ دھماکہ ‘ مسجد خواجہ حسن میں ہوا۔ ایمرجنسی ٹیموں نے 25نعشیں نکالی ہیںاور 40 زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا ہے۔ حکومت کے ایک سینئر عہدیدار عبداللہ حضرت نے یہ بات بتائی جو مقام دھماکہ پر موجود تھا ۔ایک عینی شاہد نے رائٹر کو بتایا کہ شیعہ مسلمان نماز ادا کررہے تھے کہ ایک شخص نے اپنی دھماکو اشیا میں دھماکہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ دوسرے حملہ آور نے نمازیوں پر گولیاں چلائیں۔سنی اکثریتی ملک افغانستان میں شیعہ اقلیت میں ہیں۔ افغانستان نے اکثر و بیشتر مسلکی تشدد کو ٹالا ہے جس سے عراق جیسے ممالک برباد ہوگئے لیکن حالیہ برسوں میں شیعہ فرقہ پر حملے بڑھتے جارہے ہیں۔ افغانستان میں شیعہ برادری کی تعداد کتنی ہے اس تعلق سے کوئی قابل بھروسہ اعداد مردم شماری دستیاب نہیں لیکن اندازہ ہے کہ 10 تا 20 فیصد شیعہ آبادی افغانستان میں ہے۔ بیشتر شیعہ فارسی بولنے والے ہزارہ اور تاجک نسلی گروپس سے تعلق رکھتے ہیں۔آئی اے این ایس کے بموجب گردیز کی مسجد میں 2 دھماکے 1:30 بجے دن ہوئے۔ امام زماں مسجد میں اس وقت نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی۔ گردیز مشرقی صوبہ پکتیہ کا دارالحکومت ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ابتدائی جانکاری میں پہ در پہ 2 دھماکوں کی بات سامنے آئی ہے۔ جس مسجد میں دھماکہ ہوا وہ خواجہ حسن علاقہ میں واقع ہے ۔اے ایف پی کے بموجب مشرقی افغانستان کی ایک شیعہ مسجد میں خودکش حملہ ہوا۔ صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل محمد مندوزئی نے یہ بات بتائی۔ گردیز کے محکمہ صحت کے سربراہ ولایت خان احمد زئی نے حملہ کی توثیق کی۔

جواب چھوڑیں