این آر سی مسئلہ‘ لوک سبھا میں گرما گرم بحث

کانگریس اور بی جے پی لوک سبھا ارکان اپنے شدید سیاسی اختلافات کی پرواہ کئے بغیر جمعہ کے دن اس بات پر متفق دکھائی دیئے کہ این آر سی حتمی مسودہ کی اشاعت کے بعد آسام میں امن ہے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بعض مفاداتِ حاصلہ ذیلی علاقہ واریت پیدا کررہے ہیں۔ آسام جانے والے ترنمول کانگریس وفد کو جمعرات کے دن سلچر ایرپورٹ پر روک لئے جانے پر لوک سبھا میں گرماگرم بحث کے دوران مغربی بنگال کے کانگریس رکن ادھیر رنجن چودھری نے زور دے کر کہا کہ آسام یا بنگال میں کوئی خانہ جنگی اور خون خرابہ نہیں ہوا ہے۔ ترنمول کا نام لئے بغیر بہرام پور کے رکن پارلیمنٹ نے جو ترنمول کانگریس کے خلاف اپنے سخت موقف کے لئے جانے جاتے ہیں‘ کہا کہ این آر سی مسئلہ پر ذیلی علاقہ واریت پیدا کی جارہی ہے۔ ادھیر رنجن چودھری سے قبل بی جے پی رکن پارلیمنٹ حلقہ گوہاٹی بجیہ چکرورتی نے سوال اٹھایا تھا کہ ترنمول کانگریس وفد کے دورہ آسام کا کیا جواز ہے جبکہ ریاست پُرامن ہے۔ 37 اضلاع میں کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں۔چیف منسٹر مغربی بنگال(ممتا بنرجی) نے کہا تھا کہ آسام میں خانہ جنگی اور خون خرابہ ہوگا۔ کسی چیف منسٹر کا ایسی بات کہنا بھیانک (خطرناک) ہے۔ انہوں نے جیسے ہی یہ بات کہی ترنمول ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ بجیہ نے کہا کہ ترنمول قیادت کیا کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ آسام پرامن ہے۔ این آر سی مسئلہ آسامیوں اور بنگالیوں کے درمیان زبان کا جھگڑا نہیں ہے۔ یہ قومی مسئلہ ہے۔ یہاں تک کہ میرے حلقہ گوہاٹی میں 3 لاکھ 45 ہزار بنگالی ہیں۔ ایک اور کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بھی ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی پر تنقید کی اور کہا کہ آسام کا حساس مسئلہ زوردار تقاریر سے حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تقاضہ وقت ہے کہ نفرت اور خوف کی سیاست کے خاتمہ کے لئے ہر کوئی تعاون کریں۔ انہوں نے بی جے پی کے اس دعویٰ سے اختلاف کیا کہ این آر سی کا سہرا بھگوا جماعت کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی کا 90 فیصد کام کانگریس حکومت نے مکمل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ناموں کی پرنٹنگ میں غلطیاں ہوسکتی ہیں جن کی اصلاح کی جانی چاہئے۔ دوران بحث مختصر مداخلت میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مانا کہ ترنمول کانگریس کے وفد کو جمعرات کی دوپہر سلچر ایرپورٹ پر روکا گیا تھا۔ نظم وضبط کی برقراری کے لئے یہ اقدام کیا گیا تاکہ حالات بے قابو نہ ہوں۔ قبل ازیں ترنمول رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم آسام کی وادی برک کے سلچر گئی تھی تاکہ این آر سی کی اشاعت کے بعد پیدا صورتحال کا زمینی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وفد کو ایرپورٹ پر روکنا مراعات شکنی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں بی جے پی دور میں غیرمعلنہ ایمرجنسی نافذ ہے۔ آئی اے این ایس کے بموجب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کے دن تیقن دیا کہ این آر سی کو اَپ ڈیٹ کرنے میں کوئی بھیدبھاؤ یا غیرضروری ہراسانی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پورا عمل منصفانہ اور صاف و شفاف رہا ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے۔ مرکز اور حکومت آسام پابند ہیں کہ تمام حقیقی ہندوستانیوں کے نام مقررہ مدت میں فہرست میں شامل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں کسی کے ساتھ کوئی سخت کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ این آر سی کو اَپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ 2005میں اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کا تھا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اب واضح ہوچکا ہے کہ این آر سی کی پہل کانگریس نے کی تھی ۔ راجیو گاندھی نے آسام کو لاحق خطرہ کو بھانپ لیا تھا۔ ریاست کے عوام کے تحفظ کے لئے آسام معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں