ضلع رنگاریڈی میں پلاسٹک پارک کو فروغ دینے کا اعلان : کے ٹی آر

ریاستی وزیر انفارمیشن وٹکنالوجی و صنعتیں کے تارک راما راؤ نے آج کہا کہ حکومت، ضلع رنگاریڈی کے موضع تما پور میں110 ایکر اراضی پر پلاسٹک پارک کو فروغ دینے کے لئے تلنگانہ اور آندھرا پردیش پلاسٹک مینو فیکچرنگ اسوسی ایشن ( ٹی اے اے پی ایم اے ) کے ساتھ کام کرے گی ۔ اس پارک کے قیام سے 5ہزار افراد کو روزگار کے راست مواقع حاصل ہوں گے ۔ ہائی ٹیک سٹی میں جمعہ کو 4روزہ انٹر نیشنل پلاسٹک ایکسپو ( آئی پی ایل ای ایکس 18) کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ پلاسٹک کا کئی چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہم نے محکمہ بلدیہ نظم ونسق کے عہدیداروں کو سنگل یوز پلاسٹک کے با رے میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تمام پلاسٹک، نقصاندہ نہیں ہیں۔ کے ٹی آر نے مزید کہا کہ حکومت تلنگانہ ، ٹکنالوجی میں انوسٹنگ کے ذریعہ پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے عہد پر قائم ہے ۔ ہم، ری یوز (دوبارہ استعمال) پلاسٹک صنعت کو شدت کے ساتھ فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے زیادہ سے زیادہ رعایت دینے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مختلف علاقوں میں ترجیحی اساس پر فروغ دینے کیلئے14شعبوں کا انتخاب کیا ہے ان میں پلاسٹک ،پالی تھین بھی شامل ہے ۔ این ایس ایس کے بموجب کنوینر آئی پی ایل ای ایکس2018 وینوگوپال جسٹی کی خواہش پر ریاستی وزیر کے ٹی آر نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، تمالور میں پلاسٹک پارک کو فروغ دینے کیلئے تلنگانہ اور اے پی پلاسٹک مینوفیکچرس اسوسی ایشن کے ساتھ کام کرے گی ۔ یہ پارک110 ایکراراضی پر مشتمل رہے گا جہاں500 کروڑسے زائد روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی ۔ آئی پلکس 2018 کی ایڈوائزری کمیٹی کے صدرنشین انیل ریڈی وینم نے اپنی تقریر میں کہا کہ پلاسٹک کے استعمال میں اضافہ کی مخالفت پر شوروغل کیا جارہا ہے ۔ حالانکہ جب تک اس کا متبادل مارکٹ میں نہیں آتا تب تک پلاسٹک کا استعمال جاری رہے گا ۔ انہوںنے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال پر امتناع عائد کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔میگریشن اور ری سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ آل انڈیا پلاسٹک مینو فیکچرس اسوسی ایشن کے صدرہیٹن بھیڈا نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پلاسٹک پارک کے قیام کو یقینی بنائیں کیونکہ2014 کے انتخابات کے بعد سے پلاسٹک پارک کے قیام سے متعلق بہت کچھ کہا گیا مگر اب تک اس بارے میں عملی اقدامات شروع نہیں کئے گئے ۔

جواب چھوڑیں