عوام کو انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہے گی :ممتا بنرجی

یہ بتاتے ہوئے کہ ملک سوپر ایمرجنسی کے حالات سے گذر رہا ہے ، چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے تیقن دیا کہ ان کے اور ان کی پارٹی کے رفقاء کے خلاف لاکھوں ایف آئی آر درج کیے جانے کے باوجود عوام کے لیے انصاف کی جنگ جاری رکھیںگی ۔ ان کے خلاف اور سلچر میں ان کی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ و ارکانِ اسمبلی اور وزیر کی گرفتاری اور ایف آئی آر کے خلاف ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا وہ (بی جے پی) ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کرتے جارہے ہیں ۔ یہ دلچسپی کی بات ہے کہ میں بنگال میں ہوں اور میرے خلاف ایف آئی آر آسام میں درج کیا جارہا ہے۔ عام آدمی کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے ہمارے خلاف ایک لاکھ ایف آئی آر بھی درج ہوں تو ہمیں پرواہ نہیں۔ بنرجی نے کہا کہ دورۂ دہلی کے دوران انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے بات چیت کی ہے اور آخر الذکر نے انہیں تیقن دیا کہ عام آدمی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ میرا یہ سوال ہے کہ ان کے ارکانِ پارلیمنٹ کو کیوں ہراساں کیا گیا ؟ سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت میں ہم سوپر ایمرجنسی کے حالات میں ہیں ملک میں کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ اپنی پارٹی کے رفقاء کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وہ بہتر مقصد کے لیے وہاں گئے تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب آسام میں حالات معمول پر اور پرامن ہیں تو تمام اضلاع میں دفعہ 144 کیوں نافذ کیا گیا ، کیوں ٹی ایم سی کے ارکانِ پارلیمنٹ ، ارکانِ اسمبلی اور ان کے وزیر کو روکا گیا جب کہ وہ گروپ میں نہیں بلکہ وہ دو دو مل کر دورہ کرنا چاہ رہے تھے۔ وہ صرف کنونشن سنٹر جاکر چند افراد سے بات چیت کرنے کے بعد واپس ہونا چاہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جدوجہد عام آدمیوں کے لیے جاری رہے گی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیںگے ۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوری حقوق نہیں ہیں اور کہا کہ سینئر صحافیوں کو زدوکوب کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ آسام سے تعلق رکھنے والے فوجی جو سرحدوں پر تعینات ہیں ، اپنے ارکانِ خاندان کیلئے پریشان ہیں۔

جواب چھوڑیں