افغانستان میں نیٹو قافلہ پر خودکش حملہ‘ 3 غیر ملکی فوجی ہلاک

افغانستان کے صوبہ پروان میں نیٹو قافلے پر خود کش حملے میں 3 غیر ملکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں نیٹو کے قافلے پر ایک کار سوار نے خود کش حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 3 غیر ملکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں 2 امریکی اور 2 افغانی سپاہی شامل ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ جمہوریہ چیک کی حکومت نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک فوجیوں کا تعلق ان کے ملک سے تھا۔پروان کے گورنر کی ترجمان واحدہ شاہکار نے بتایا کہ ایک تیز رفتار کار صبح 6 بجے نیٹو قافلے کے درمیان ا?کر زور دار دھماکے سے تباہ ہوگئی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقہ کا محاصرہ کرکے دہشت گردوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ترجمان گورنر کا مزید کہنا تھا کہ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے، خود کش دھماکے میں نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد حملے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر کردی جائے گی۔ خود کش حملہ ا?ور کی باقیات مل گئی ہیں جسے لیبارٹری بھیجا جائے گا۔ جمہوریہ چیک کی فوج نے حال ہی میں نیٹو مشن کے تحت افغانستان میں 2020 تک اپنے 390 فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔واضح رہے کہ ضلع گردیز میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران دو خود کش حملوں میں 30 نمازی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ 50 کے قریب زخمی تھے جس کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 50 سے زائد طالبان کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔چیک جمہوریہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان صوبے پروان میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے تینوں فوجی چیک فوج سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی خودکش حملے میں ایک امریکی اور دو افغان فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ چیک جمہوریہ کے وزیر دفاع لْوبومیر میٹنار (Lubomir Metnar) نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر شدید رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ چیک جمہوریہ نے حال ہی میں اپنے 230 فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 390 کر دی تھی اور یہ فوجی افغانستان میں سن 2020 تک تعینات رہیں گے۔ طالبان نے پروان صوبے کے دارالحکومت چارا کار کے نواحی مقام خالازئی میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

جواب چھوڑیں