ڈرون حملہ‘ مجھے ہلاک کرنے کولمبیا کی سازش۔صدروینزویلا نکولس مدورو کا الزام

صدر وینزویلانکولس مدورو ہفتہ کے دن تقریرکررہے تھے کہ ایک دھماکہ ہوا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ناکام قاتلانہ حملہ تھا جس نے دھماکواشیاء سے لیس ڈرونس کا استعمال کیاگیا۔ مدورو نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دائیں بازو کا منصوبہ تھا جو کولمبیا اور امریکی ریاست فلوریڈا سے جڑا ہے جہاں وینزویلا کے کئی شہری جلاوطن ہیں۔ انہوں نے تفصیل بتائے بغیر کہا کہ کئی خاطیوں کوپکڑلیاگیا ہے۔ وزیراطلاعات جارج راڈرگس نے بتایاکہ دھماکو اشیاء سے لیس ڈرونس اس فوجی تقریب کے قریب پھٹ پڑے جہاں صدروینزویلا خطاب کررہے تھے۔ وینزویلا کی ایک شہری نے رائٹر کو بتایاکہ اس نے دو دھماکے سنے ہیں ‘ بائیں بازو کے مدورو نے سال2013ء میں صدر شاویز کی موت کے بعد ان کی جگہ لی ہے۔ مدورو محفوظ رہے‘ لیکن راڈرگس نے کہا کہ نیشنل گارڈ کے سات فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ مدورو نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ یہ انہیں قتل کرنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ غیر معروف گروہ نیشنل موومنٹ فارسولجرس ان ٹی شرٹس نے حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ سوشیل میڈیا پر سلسلہ وار پوسٹس میں گروپ نے کہا کہ اس نے دو ڈرون اڑانے کا منصوبہ بنایاتھا لیکن ماہرنشانہ بازوں نے انہیں مارگرایا۔ ہم ثابت کردیاہے کہ صدر غیر محفوظ ہیں۔ ہمیں آج کامیابی نہیں ملی لیکن وقت وقت کی بات ہے۔ 2014ء میں قائم ہونے والے اس گروپ کا مقصد وینزویلا کے تمام مزاحمتی گروپس کو یکجاکرنا ہے۔ گروپ نے رائٹر کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ مدورو کو مئی میں 6 سال کی نئی میعاد حاصل ہوئی ہے لیکن ان کے حریف اس الیکشن کو نہیں مانتے۔ ان کا الزام ہے کہ اس میں کئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ وینزویلا میں شدید معاشی بحران کا پانچواں سال جاری ہے۔ کئی لوگوں نے ملک سے نقل مقام کیا ہے۔ مدورو نے کولمبیا کے صدر جے ایم سیانٹوس پرالزام عائد کیاکہ حملہ کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے لیکن انہوں نے اپنے اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ مدورو نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات بوگوٹا کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ حکومت کولمبیا کے ذرائع نے مدورو کے الزام کوبیہودہ قراردیا۔ دھماکہ کے وقت مدورو وینزویلا کی معیشت پر اظہارخیال کررہے تھے۔ ان کی تقریر کا ٹی وی پر راست ٹیلی کاسٹ جاری تھا کہ دھماکہ ہوتے ہی آڈیو اچانک منقطع ہوگیا۔ اسٹیج پر مدورو اور دیگر قائدین پریشان دکھائی دئیے۔ سوشیل میڈیا پرتصاویر میں دکھایاگیاکہ باڈی گارڈس نے مدورو کو گھیر لیاہے۔ خود کو شاویز کا بیٹا کہنے والے سابق ڈرائیور مدورو کا کہنا ہے کہ وہ سوشلزم کو تباہ کرنے کی استعماری سازش سے نمٹ رہے ہیں۔ مخالفین کا الزام ہے کہ مدورو آمر ہیں۔ انہوں نے ملک کی معیشت کو جوکبھی مالامال تھی تباہ کردیا۔ انہوں نے اختلاف رائے کو بے رحمی سے کچلا ہے۔ مدورو نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اُن پر حملہ کے ذمہ دار وہ دانشور اور فیانسرس ہیں جو امریکہ میں رہتے ہیں، یعنی امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں رہتے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان دہشت گرد گروپس کے خلاف کاروائی کریں۔ اسی دوران امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہم نے وینزویلا سے آنے والی خبریں سنی ہیں، ہم صورتحال کا بغورجائزہ لے رہے ہیں۔ گذشتہ برس وینزویلا کے ایک سرکش پولیس عہدیدار نے ہیلی کاپٹر پرقبضہ کرلیاتھا اور سرکاری عمارتوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ اس نے کہاتھا کہ ایک آمر کے خلاف اس کا یہ اقدام ہے۔ وینزویلا کی سیکیوریٹی فورسس نے اس عہدیدار کو مارگرایاتھا۔

جواب چھوڑیں