بہار شیلٹر ہوم عصمت ریزی معاملہ پر لوک سبھا میں ہنگامہ

بہار کے مظفرپور آبروریزی معاملہ میں ملزمین کو بچانے اور ثبوت کو ختم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ارکان نے وقفہ صفر کے دوران لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور حکومت کی طرف سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا یقین دلائے جانے کے باوجود پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرگئے۔وقفہ صفر کی کارروائی ختم ہوتے ہی کانگریس اور آر جے ڈی کے ارکان مظفر پور کے ایک لڑکیوں کے شیلٹر ہوم میں 40 لڑکیوں کے ساتھ آبروریزی کے معاملے کو اٹھانے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ ضروری کاغذات پیش کئے جانے کے بعد وقفہ صفر میں انہیں اس کی اجازت دیں گی۔وقفہ صفر ہونے پر انہوں نے کانگریس کی رنجیت رنجن اور آر جے ڈی کے جے پرکاش نارائن یادو کو اس پر بولنے بھی دیا لیکن دونوں پارٹیوں کے ارکان وزیر داخلہ سے بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے پہنچ گئے۔ رنجیت رنجن نے اسپیکر کے ڈیسک پر سے کتاب نیچے پھینک دی۔ انہوں نے لوک سبھا جنرل سکریٹری کی ڈیسک پر سے بھی کچھ کتابیں نیچے گرادیں۔ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر سمترامہاجن نے 12بجکر 20منٹ پر پارلیمنٹ کی کارروائی 10 منٹ کے لئے ملتوی کردی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی کانگریس اور آر جے ڈی کا ہنگامہ جاری رہا۔ اسپیکر نے کہا کہ معاملہ حساس ہے اور سی بی آئی کی جانچ کا حکم دیا جاچکا ہے۔ اس لئے ہر مرتبہ وزیر داخلہ بیان دیں یہ ضروری نہیں ہے۔ اسی دوران وزیر پارلیمانی اموراننت کمار نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر داخلہ پہلے بیان دے چکے ہیں اور سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا جاچکا ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ سی بی آئی تحقیقات پوری طرح غیر جانبدار ہوگی۔ رکن پارلیمنٹ نے جو بھی نئی بات کہی ہے اسے وزیر داخلہ تک پہنچا دیا جائے گا لیکن ان کے جواب سے غیر مطمئن کانگریس اور آر جے ڈی کے ارکان‘ پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرگئے۔

جواب چھوڑیں