سعودی عرب سے کینیڈا کے سفیر کا اخراج

سعودی عرب نے آج کہا ہے کہ وہ کینیڈا کے سفیر کا اخراج عمل میں لارہا ہے۔ اس نے اپنا سفیر طلب کرلیا ہے اور تمام نئے تجارتی معاہدے منجمد کردیئے ہیں۔ اس نے یہ اقدام اوٹاوا کے اس پرزور مطالبہ کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے کہ مملکت اپنی جیلوں میں بند تمام کارکن رہا کردے۔ مملکت نے کینیڈا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کے لئے 24 گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔ سعودی عرب نے اس کے بقول اپنے داخلی امور میں مداخلت کے خلاف اچانک اقدام کیا ہے۔ یہ اقدام‘ کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی نئی جارحانہ خارجہ پالیسی کو اجاگر کرتا ہے۔ کینیڈا نے انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ سعودی وزارت خارجہ نے ٹویٹ کیا کہ کینیڈا کا موقف‘ سعودی عرب کے داخلی امور میں واضح مداخلت ہے۔ مملکت اعلان کرتی ہے کہ وہ کینیڈا سے اپنا سفیر صلاح و مشورہ کے لئے واپس بلارہی ہے۔ ہم مملکت میں کینیڈا کے سفیر کو ناپسندیدہ اجنبی سمجھتے ہیں اور اندرون 24 گھنٹے یہاں سے چلے جانے کا حکم دیتے ہیں۔ وزارت ِ خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کینیڈا کے ساتھ تمام نئی تجارتی اور سرمایہ کاری معاملتیں منجمد کردی جائیں گی۔ مزید کارروائی کا اختیار محفوظ ہے۔ کینیڈا نے گذشتہ ہفتہ کہا تھا کہ اسے بڑی تشویش ہے کہ مملکت میں خواتین اور انسانی حقوق کارکنوں کی گرفتاری کی نئی لہرآگئی ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار ثمر بداوی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ کینیڈا کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے دن ٹویٹ کیا تھا کہ ہم حکومت سعودی عرب سے ان کی اور تمام دیگر پرامن انسانی حقوق کارکنوں کی فوری رہائی کی خواہش کرتے ہیں۔ سعودی وزارت ِ خارجہ نے کینیڈا کے بیان پر تنقید کی۔ اس نے اشارہ دیا کہ وہ مملکت کے خراب انسانی حقوق ریکارڈ پر مغرب کی تنقید سے تنگ آچکی ہے ۔اس نے ٹویٹ کیا کہ کینیڈا کے بیان میں فوری رہائی کا جو استعمال کیا گیا وہ انتہائی بدبختانہ اور دو ممالک کے تعلقات میں ناقابل قبول ہے۔ امریکہ رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ کے ایک فیلو کرسٹین رکسن نے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ سعودی سفارتی تعلقات میں بگاڑ دکھاتا ہے کہ نیا سعودی عرب اور پرنس محمد بن سلمان اپنے داخلی امور میں کسی بھی طرح کی تنقید گوارہ کرنے تیار نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے سفیر کا ریاض سے اخراج دیگر مغربی حکومتوں کو سخت پیام دینے کے لئے ہے کہ وہ مملکت پر تنقید نہ کریں۔ بسمہ مومنی(پروفیسر یونیورسٹی آف واٹرلو‘ کینیڈا) نے اے ایف پی سے کہا کہ کینیڈا سے تعلقات منقطع کرنا سعودی عرب کے لئے دیگر مغربی ممالک کے مقابلہ آسان ہے کیونکہ کینیڈا کے ساتھ اس کے باہمی تجارتی تعلقات مضبوط نہیں ہیں۔ سعودی عرب کے ان ہزاروں طلبا کے لئے پریشانی ضرور ہے جو کینیڈا میں زیرتعلیم ہیں۔

جواب چھوڑیں