سپریم کورٹ ججس کی سی جے آئی سے ملاقات

سپریم کورٹ کے ججس نے آج چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا سے ملاقات کی اور جسٹس کے ایم جوزف کی سیناریٹی گھٹانے کے مرکز کے فیصلہ پر اپنا احتجاج درج کرایا۔ جسٹس جوزف دیگر 2 ججس کے ساتھ کل حلف لینے والے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ ججس نے بشمول جسٹس ایم بی لوکر اور جسٹس کورین جوزف (جو کالجیم کے رکن ہیں) سی جے آئی سے دن کی کارروائی شروع ہونے سے قبل چائے پر ججس لاؤنج میں ملاقات کی۔ جسٹس رنجن گوگوئی جو سی جے آئی کے بعد سینئر ترین جج ہیں‘ موجود نہیں تھے کیونکہ وہ آج رخصت پر تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ سی جے آئی نے ججس کو تیقن دیا کہ وہ جسٹس گوگوئی سے صلاح و مشورہ کے بعد مسئلہ مرکز سے رجوع کریں گے۔ سی جے آئی‘ جسٹس گوگوئی‘ جسٹس لوکر اور جسٹس جوزف کے علاوہ کالجیم کے پانچویں رکن جسٹس اے ایم سیکری ہیں۔ مرکزنے جمعہ کے دن 3 ججس کے تقرر کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔ اس نے سیناریٹی میں جسٹس کے ایم جوزف کو تیسرے نمبر پر رکھا۔ اعلامیہ میں مدراس ہائی کورٹ کی چیف جسٹس اندرا بنرجی کو پہلے اور اڑیسہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ونیت سرن کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا۔ روایت ہے کہ ججس کی سیناریٹی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق مانی جاتی ہے۔ تقرر ناموں پر صدرجمہوریہ کے دستخط 3 اگست کو ہوئے۔ جسٹس جوزف جس وقت اترکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے انہوں نے اس بنچ کی قیادت کی تھی جس نے 2016میں ریاست میں صد ر راج کے نفاذ کو رد کردیا تھا۔ اترکھنڈ میں اس وقت کانگریس حکومت تھی۔ کالجیم نے 10 جنوری کو جسٹس جوزف کا نام سینئر وکیل اندو ملہوترہ کے نام کے ساتھ بھیجا تھا کہ ان دونوں کو سپریم کورٹ کا جج بنایا جائے تاہم حکومت نے جسٹس اندو ملہوترہ کا تقرر کردیا تھا اور جسٹس جوزف کا نام دوبارہ غور کرنے کے لئے واپس بھیج دیا تھا۔ کالجیم نے 16مئی کو جسٹس جوزف کا نام پھر تجویز کیا اور جولائی میں سفارش حکومت کو بھیجی جسے قبول کرلیا گیا۔ 3 نئے ججس کے تقرر کے بعد سپریم کورٹ ججس کی تعداد اب 25 ہوگئی ہے لیکن 6 جائیدادیں ہنوزمخلوعہ ہیں۔اسی دوران جسٹس جوزف کی سیناریٹی گھٹانے کی حکومت کی مبینہ کوشش پر تنازعہ کی گونج لوک سبھا میں سنائی دی۔ کے وینوگوپال(کانگریس ) نے وقفہ صفر میں مسئلہ اٹھایا۔ جسٹس جوزف کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عدلیہ کے ہر تقرر میں اس کی چلے۔ انہوں نے جسٹس جوزف کی سیناریٹی کے معاملہ میں چیف جسٹس آف انڈیا سے بعض سپریم کورٹ ججس کی مجوزہ ملاقات کی میڈیا اطلاعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس جوزف ایک ایماندار اور لائق جج بتائے جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں