پرانے شہر میں7مقامات کی این آئی اے نے تلاشی لی

نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 2016کے ممنوعہ داعش کیس کے سلسلہ میں آج پرانے شہر کے 7مقامات کی تلاشی لی ۔ ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ پرانے شہر کے مشتبہ مقامات پرتلاشی کے دوران ایجنسی نے ڈیجیٹل ڈیوائس اور قابل جرم ثبوت مواد کوضبط کرلیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاہم انہوںنے مزید تفصیلات بنانے سے انکار کردیا۔ این آئی اے نے 2016 میں ایک اہم اطلاع ملنے پر ایک کیس درج کیاتھا جس میں بتایاگیا ہے کہ چند نوجوان اوران کے ساتھی ملک کے خلاف حملہ کی مجرمانہ سازش رچنے کے لئے ہتھیار اور دھماکو مادہ حاصل کررہے ہیں ان کا مقصد ملک کے مختلف مقامات پر عوامی اور مذہبی مقامات ‘حساس سرکاری عمارتوں کونشانہ بناناتھا۔ این آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات پوری کرلی ہیں اور 11افراد کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی ہے ۔ ان 11ملزموں میں سے 3مفرور بتائے گئے ہیں ۔ایجنسی کے عہدیدار نے بتایاکہ شہرمیں آج مشتبہ مقامات کی تلاشی کے بعداس کیس میں چنداہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ نمائندہ منصف کے بموجب نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے آج صبح شاہین نگر شاہ ہلز‘بالاپور پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع عبدالقدیر ولدعبدالقدوس کے مکان کی تلاشی لیتے ہوئے ان کے قبضہ سے ایک لیاپ ٹاپ اوربعض دستاویزات کوضبط کرلیااور 19سالہ عبدالقدیر اوران کے والد عبدالقدوس سے پوچھ تاچھ کی۔ بتایا گیاہے کہ 54سالہ عبدالقدوس کے رشتہ دار ‘پاکستان کے صوبہ سندھ میں رہتے ہیں۔ عبدالقدوس اپنے فرزند عبدالقدیر کے سل فون پراپنے رشتہ داروں سے مسلسل بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ این آئی اے نے ان کی اس بات چیت پرمسلسل نظررکھے ہوئی تھی۔ عبد القدوس کا تعلق ضلع جئے شنکر بھوپال پلی سے ہے ۔ این آئی اے نے انہیں اور ان کے لڑکے قدیر کو بھوپال پلی بھی لے گئی جہاں تحقیقات کے بعد دوبارہ انہیں شاہین نگر لاکر چھوڑدیااورکل صبح انہیں این آئی اے دفتر بیگم پیٹ پرحاضر رہنے کی ہدایت دی ۔بعدازاں عبدالقدوس نے میڈیا کو بتایا وہ اوران کا لڑکا بے قصور ہے ہم کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ قدیرجس کی عمر 19سال ہے حیدرآباد میں پیداہواہے ۔ عبدالقدوس نے مزید بتایا کہ وہ دینی مدرسہ میں ملازم ہیں اور مدرسہ کا چندہ وصول کرنے پر مامور ہیں انہیں ماہانہ 13ہزار تنخواہ دی جاتی ہے جبکہ ان کا لڑکا عبدالقدیرایس ایس سی فیل ہے ۔ وہ جمعیت اہل حدیث کے ساتھ دین کی تبلیغ میں سرگرم رہتاہے ۔ اس کے علاوہ ان کا لڑکا کہاںجاتا ہے وہ اس سے لاعلم ہیں۔ عبدالقدوس نے کہاکہ این آئی اے عہدیداروں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ ہمیںان سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ ان عہدیداروں نے ان کے لڑکے کالیاپ ٹاپ اورایک چھٹی بھی ساتھ لے گئے جس میں بعض طلباء کے نام لکھے ہوئے تھے ۔ آج صبح پولیس کے عہدیدار جوسادہ لباس میں تھے‘ شاہین نگر پہنچنے پر اس علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور مقامی لوگ جمع ہوگئے ۔

جواب چھوڑیں