کشمیر میں دوسرے دن بھی فقیدالمثال ہڑتال

جموں وکشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے خلاف ہورہی مبینہ سازشوں کے خلاف وادی کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں پیر کو مسلسل دوسرے دن بھی فقیدالمثال ہڑتال کی وجہ سے سناٹاچھایا رہا۔ ہڑتال کے پیش نظر وادی بھر میں ریل خدمات پیر کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہیں۔ کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کی گاڑیوں کی آمدورفت بھی مسلسل دوسرے دن معطل رکھی گئی۔ اس کے علاوہ جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار کاروان امن بس سروس معطل کردی گئی۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ ریل خدمات، یاترا گاڑیوں کی آمدورفت اور سری نگر مظفرآباد کاروان امن بس سروس کو معطل رکھنے کے یہ اقدام احتیاطی طور پر اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا ‘ہم نہیں چاہتے ہیں کہ کسی یاتری، مسافر یا مہمان کو کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ‘۔ اتوار کی طرح پیر کو بھی وادی کے بیشتر حصوں بالخصوص سری نگر اور ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکیں سنسان نظر آئیں۔ جموں وکشمیر اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں اور آٹو رکشا بھی سڑکوں سے غائب رہیں جبکہ پٹرول پمپ بند رہے ۔ تقریباً تمام تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں درس وتدریس کا عمل معطل رہا جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح متاثر رہا۔ بیشتر ملازم سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے نتیجے میں اپنے کام کے مقامات پر نہیں پہنچ پائے ۔ وادی کے تقریباً تمام حساس علاقوں بالخصوص سری نگر کے پائین شہر میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات رہی۔ خیال رہے کہ کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پورے جموں وکشمیر میں 5 اور 6 اگست کو مکمل ہڑتال اور سول کرفیو نافذ کرنے کی کال دی تھی۔ وادی کی تقریباً تمام تجارتی انجمنوں، سول سوسائٹی گروپوں، ٹرانسپورٹروں، کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر طبقوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں نے اس دو روزہ ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ مزاحمتی قیادت نے 29 جولائی کو ایک بیان میں 5اور 6اگست کو جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال کے ذریعے سول کرفیو نافذ کرنے کی کال دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 35 اے باشندگان کشمیر کے لیے سیاسی، تہذیبی اور معاشی طور موت وحیات سے جڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے بار اسوسیشن، تمام ٹریڈرس فیڈریشنوں، ٹرانسپورٹ انجمنوں، ایمپلائز یونینوں چیمبرس آفس کامرس، ہاؤس بوٹ اونرس، ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ انجمنوں، طلباء یونٹوں کے علاوہ عام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370کو منسوخ کئے جانے سے اولاً یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا راستہ صاف ہوسکتا ہے اور دوم تحریک حق خودارادیت کو ناکام بنانے کے لیے یہ ایک زہریلی اسرائیلی پالیسی ہے ۔

جواب چھوڑیں