ہیروشیما پر جوہری بم حملے کے73 سال مکمل

جاپان کے ہیرو شیما میں آج ہی کے دن 73 سال قبل ایٹم بم کااستعمال کیاگیاتھا ۔ شہر کے میئر نے انتباہ دیا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پرستی امن و امان کے لیے خطرہ ہے ۔ پیس میموریل پارک پر مطلع صاف و شفاف تھا جیسا کہ 6 اگست 1945کو تھا جبکہ ایک امریکی B-29 طیارہ نے بندرگاہی شہر پر ہلاکت خیز بم ڈالا جہاں ہر جگہ فوجی تنصیبات موجود تھے ۔ اس بمباری کے نتیجہ میں ایک لاکھ 40ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ہیرو شیما کے میئر جو سالانہ تقریب کے لیے بم ڈالے گئے مقام کے قریب پارک میں موجود تھے انہوں نے پھر ایک مرتبہ اپیل کااعادہ کیا کہ عالمی سطح پر نیوکلیر اسلحہ کا خاتم ہو ۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی پرستی کے خطرہ کے خلاف بھی انتباہ دیا ۔ علحدہ موصولہ اطلاع کے موجب جاپانی شہر ہیروشیما میں ایٹم بم گرائے جانے کے 73 سال مکمل ہونے پر آج بروز پیر خصوصی یادگاری تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران 6 اگست 1945 کو ایٹمی حملے نے ہیروشیما میں تباہی مچا دی تھی- جاپانی شہر ہیروشیما میں پیر 6 اگست کو منعقد ہوئی ایک یادگاری تقریب میں وہاں ایٹم بم کی تباہی کاری کی وجہ سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو یاد کیا گیا اور ساتھ ہی زور دیا گیا کہ دنیا سے ان ہتھیاروں کے خاتمے کو ممکن بنایا جانا چاہیے۔ یہ تقریب ایک ایسے وقت پر منعقد کی گئی، جب یہ امید کی جا رہی ہے کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا۔خبر رساں ادارے اے پی نے جاپانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیروشیما میں منعقد ہونے والی سرکاری یادگاری تقریب میں میئر کازومی ماتسوری نے اپنے خطاب میں ٹوکیو میں ملکی حکومت پر زور دیا کہ وہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کی خاطر زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’ذرا سوچیے کہ اگر آپ کے گھر والے اْس دن (6 اگست 1945 کو) یہاں ہوتے۔‘‘6اگست 1945ء کو امریکی جہاز Enola Gay نے ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔ اس بم کو’لٹل بوائے‘ کا بے ضرر سا نام دیا گیا تھا۔ اْس وقت اس شہر کی آبادی ساڑھے تین لاکھ تھی اور حملے کے فوری بعد ستر ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ چند دنوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔ماتسوری نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ ممالک قوم پرستی کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید بنانے کی کوششوں میں ہیں اور اس وجہ سے سرد جنگ کے بعد ختم ہونے جانے والی کشیدگی ایک مرتبہ بھر بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کر دیا جائے۔امریکہ کی طرف سے جاپانی شہر ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم کی وجہ سے ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس کے تین دن بعد جاپان کے ایک اور شہر ناگاساکی پر کیے گئے ایٹمی حملے کے نتیجے میں 70 ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ ان حملوں کے بعد جاپان نے ہتھیار پھینک دیے تھے، جس کے باعث دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکا تھا۔ہیروشیما میں ہونے والی اس یادگاری تقریب میں پچاس ہزار افراد شریک ہوئے، جن میں اس شہر کے باسیوں سمیت اٹھاون ممالک کے نمائندے اور امریکی سفیر ولیم ہیگرٹی بھی شامل تھے۔ صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔اس تقریب میں جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی طاقت کے حامل ممالک اور دیگر ممالک میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے عہد کیا کہ وہ ان اختلافات کو ختم کرانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔وزیرجاپان شنزآوبے جن کی حکومت نے نیوکلیر اسلحہ پر امتناعہ کے اقوام متحدہ کے سمجھوتہ میں شرکت نہیں کی ہے ‘انہوں نے تقریب میں بتایا کہ جاپان کی ذمہ داری ہے کہ نیوکلیائی اور غیر نیوکلیائی ممالک کے درمیان جو خلا ہے اسے پر کریں ۔ سمجھوتہ کاراست حوالہ دیئے بغیر تقریب میں انہوں نے بتایا کہ حالیہ سالوں کے دوران یہ واضح ہوا ہے کہ نیوکلیر اسلحہ میں تخفیف میں پیشرفت کے طریقہ کے بارے میں مختلف ممالک کے درمیان تفاوت موجود ہے ۔

جواب چھوڑیں