انڈونیشیا میں زلزلے سے ہزاروں افراد بے گھر ، خوراک اور پینے کے پانی کی قلت

انڈونیشیا میں حکام نے آج ایک اعلان میں بتایا ہے کہ جزیرہ لومبوک میں آنے والے زلزلے کے تین روز بعد 70 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد ناپائیدار پناہ گاہوں میں سونے پر مجبور ہیں اور انہیں خوراک، پینے کے پانی اور دواؤں کی قلت کا سامنا ہے۔اتوار کی شام 6.9 درجے شدّت کے ساتھ آنے والے زلزلے کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 105 انڈونیشی شہری جاں بحق اور 236 زخمی ہو گئے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ایک دوسرے زلزلے کے سبب مذکورہ آتش فشاں جزیرے میں 17 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ لومبوک جزیرے کے خوبصورت ساحلوں کے سبب سیاح بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں زلزلے سے ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ طبّی ٹیموں اور بنیادی نوعیت کے مواد میں کمی کا سامنا ہے۔دوسری جانب قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے ترجمان سوتوپو پورو نورگروہو نے بدھ کے روز بتایا کہ “علاقے سے لوگوں کے انخلا کی کوششیں بڑھا دی گئی ہیں تاہم زمینی طور پر بہت سی مشکلات ہیں۔امدادی ٹیموں کی جانب سے عمارتوں کے ملبوں کے بیچ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔انڈونیشیا کے جزیرے لومبوک کا رقبہ 4700 مربع میٹر ہے۔ زلزلے نے جزیرے کے بعض دیہات کو مکمل طور پر متاثر کیا۔ مقامی آبادی آفٹر شاکس کے خوف سے اپنے گھروں سے دْور کھلے میدانوں میں سو رہی ہے۔

جواب چھوڑیں