تلنگانہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کے داخلوں میں اضافہ۔ وزارتِ فروغ انسانی وسائل کا سروے

تلنگانہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کے داخلوں؍ اندراج (انرولمنٹ) میں پانچ برسوں کی مدت میں اضافہ ہوا ہے جو 22 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ دیگر اقلیتوں جیسے عیسائی، سکھوں، جین مت کے ماننے والوں، بدھسٹوں اور پارسی طلبہ کا انرولمنٹ لگ بھگ 17 فیصد تک گھٹ گیا ہے۔ اس صورتحال کا اظہار وزارتِ فروغ انسانی وسائل کے جاری کردہ آل انڈیا سروے برائے اعلیٰ تعلیم میں کیاگیا ہے۔ 2012-13ء میں 89,524 مسلم طلبہ کا اندراج ہوا تھا جو 2017-18ء میں بڑھ کر1,09,240 ہوگیا۔ دوسری جانب دیگر اقلیتی طبقات کے طلبہ کا اندراج جس کی تعداد 2012-13ء میں 11,920 تھی‘ گھٹ کر 2017-18ء میں 9,866ہوگئی ہے۔ مذکورہ ڈاٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے سابق صدر اسٹرٹیجی اینڈ نیو انیشیٹیوز (SNI )‘ بِل اینڈملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن پروفیسرامیراللہ خان نے کہا کہ سابقہ برسوں کے مقابلہ میں تعلیم کی جانب زیادہ رسائی سے ریاست تلنگانہ میں اندراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر خان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس انرولمنٹ کا تعلق‘بڑے پیمانہ پر خانگی اور سرکاری دونوں سطحوں پراسکولوں کے کھول دیئے جانے سے ہے۔ ’’کئی پڑوسی علاقوں میں نئے اسکولس بشمول اقلیتوں کے رہائشی اسکولس اور خانگی اسکولس میں زبردست اضافہ کے سبب انرولمنٹ میں اضافہ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ مذکورہ اسکولس اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے طلبہء کو فراہم کرنے والے اداروں کی طرح کام کررہے ہیں‘‘۔دیگر اقلیتی طبقوں کے طلبہ کے انرولمنٹ میں کمی کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے پروفیسر خان نے کہا کہ اُن طلبہ نے گذشتہ دہے یا لگ بھگ اتنی ہی مدت میں تقریباً مکمل انرولمنٹ کی حدوں کو چھولیا اور بعض دفعہ تو یہ اندراجات صد فیصد سے بھی آگے نکل گئے‘ کیونکہ یہ انرولمنٹ متعدد اداروں میں ہواتھا۔

جواب چھوڑیں