ہری ونش‘ نائب صدرنشین راجیہ سبھا منتخب

قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے امیدوار ہری ونش کو آج راجیہ سبھا کا نائب صدرنشین منتخب کر لیا گیا۔ ان کے حق میں 125 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 105 ارکان نے ووٹ دیا۔ ہری ونش کے خلاف اپوزیشن نے کانگریس کے بی کے ہری پرساد کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ اپوزیشن کے کچھ رکن ووٹنگ کے دوران ایوان میں موجود نہیں تھے۔راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی صدرنشین ایم وینکیانائیڈو نے ضروری کاغذات میزپر رکھوانے کے فوراً بعد نائب صدرنشین کے انتخاب کی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ نائب صدرنشین کے انتخابات کے لئے نو نوٹس ملے اور متعلقہ ارکان سے اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں تجویز پیش کرنے کو کہا۔ ہری ونش کے حق میں چار اور ہری پرساد کے حق میں پانچ تجاویز پیش کی گئیں۔سب سے پہلے جنتا دل یو کے رام چندر پرساد سنگھ نے ہری ونش کے حق میں تجویز پیش کی اور ریپبلکن پارٹی (A) کے رکن اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاؤلے نے اس کی حمایت کی۔اس کے بعد بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندر مشرا نے ہری پرساد کے نام کی تجویز پیش کی اور کانگریس کے وویک تنکھا نے حمایت کی۔راشٹریہ جنتا دل کی میسا بھارتی نے ہری پرساد کے حق میں تجویز پیش کی جس کی تلگو دیشم پارٹی کے وائی ایس چودھری نے حمایت کی۔ اس کے علاوہ کانگریس کے آنند شرما ، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی وندنا راج چوہان نے بھی ہری پرساد کی حمایت میں تجویز پیش کی جن کی حمایت بالترتیب کانگریس کے بھونیشور کلتا، کانگریس کے احمد اشفاق کریم اور کانگریس کے ہی جی کپیندر ریڈی نے کی۔ ہری ونش کے حق میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیت شاہ، شیوسینا کے سنجے راوت اور شرومنی اکالی دل کے سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا نے بھی قراردادیں پیش کیں جس کی حمایت بالترتیب بی جے پی کے رام وچارنیتم، جنتا دل متحدہ کی کہکشاں پروین اور اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی وجیلا ستیانت نے کی۔اس کے بعد صدرنشین نے ہری ونش اور رام چندر پرساد سنگھ کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کرائی۔ نائیڈو نے اعلان کیا کہ ووٹنگ میں تجاویز کے حق میں 125 ووٹ پڑے ہیں جبکہ مخالفت میں 105 ارکان نے ووٹ دیا ہے پھر ان ارکان نے ہری ونش کے منتخب ہونے کا اعلان کیا جس کا دونوں جانب کے ارکان نے میزیں تھپتھپاکر خیر مقدم کیا۔

جواب چھوڑیں